سپریم کورٹ میں پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو نکالنے کے کیس میں عدالت نے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے حکومتی منصوبے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا کہ حکومت جو کرنے جا رہی ہے اس سے تباہی پھیلے گی۔
انہوں نے کہا کہ آپ اس معاملے کو انتہائی برے طریقے سے دیکھ رہے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت اپنے کیے ہوئے فیصلوں پر کیوں کھڑی نہیں ہو پا رہی؟
چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ عدالت آپ کو سہارا نہیں دے سکتی، آپ کو اندازہ ہی نہیں حکومت کیا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل سے متعلق جو منصوبہ بنایا گیا اس سے 5 ہزار مقدمات عدالتوں میں آ جائیں گے، پاکستان سٹیل ملز انتظامیہ کے پاس اہلیت ہی نہیں ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیل ملز انتظامیہ زیادہ ہوشیاری دکھائے گی تو یہ انہی کے گلے پڑے گی، آپ کو دوبارہ انہی لوگوں کو ملازمت پر رکھنا پڑے گا جنہیں آپ نکالنا چاہتے ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کا منصوبہ یہ ہے کہ 95 فیصد ملازمین کو نکالا جائے گا اور کنٹریکٹ پر نئے ملازمین بھرتی کیے جائیں، اس وقت اسٹیل ملز ملازمین کے ہائیکورٹس میں 320 اور سپریم کورٹ میں 29 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ متعلقہ قانونی شق اس معاملے میں آڑے آئے گی، یہ آڑے نہیں بلکہ پورا آئے گی۔
انہوں نے اسٹیل ملز کے وکیل سے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی اس معاملے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، وکیل نے انہیں بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے فیصلے پہ عمل درآمد پر 40 ارب روپے خرچ آئے گا۔
بعد ازاں عدالت نے فریق مقدمہ کے وکیل کامران مرتضیٰ کی علالت کے باعث سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز سے نئی رپورٹ طلب کر لی۔