ملک بھر کے پائلٹس کے لائسنسوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے جس کے نتیجے میں ایوی ایشن ڈویژن نے مزید 15 پائلٹس کو معطل کر دیا ہے جس کے بعد مشکوک پائلٹس کی تعداد 93 ہو گئی ہے۔
معطل ہونے والے 15 پائلٹس ان 262 میں شامل ہیں جن کے لائسنس پہلے ہی مشکوک قرار دیے جا چکے ہیں، 28 کے لائسنس منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
پائلٹس کی مشکوک ڈگریاں، سی اے اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی
ویتنام نے مشکوک لائسنس کے معاملے پر تمام پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کر دیے
ایوی ایشن ڈویژن کے ترجمان سینئر جوائنٹ سیکرٹری عبدالستار کھوکھر نے بتایا کہ کل 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک پائے گئے تھے اور حکومتی ہدایات کے تحت انہیں فوری طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے 262 پائلٹس میں سے 28 کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔
ان 28 پائلٹس کو سماعت کا پورا موقع دیا گیا تھا اور ان کے خلاف مکمل قانونی طریق کار اختیار کیا گیا تھا جس کے بعد وفاقی کابینہ نے لائنسنس منسوخ کرنے کی منظوری دی تھی۔
وفاقی کابینہ نے فیصلہ کرنے سے قبل دو مرتبہ اس پر غوروخوض کیا تھا، اب یہ پائلٹس فلائنگ ڈیوٹی پر نہیں جا سکیں گے۔
اس وقت تک 93 پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کا عمل جاری ہے جبکہ بقیہ 141 کے متعلق ایک ہفتے میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
ایوی ایشن ڈویژن کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی وزیر ہوابازی غلام سرور خان خود نگرانی کر رہے ہیں، وہ جانچ پڑتال، تصدیق اور اس کے نتیجے میں تادیبی کارروائی کو دیکھ رہے ہیں۔
اس دوران ایک نجی فضائی کمپنی سیرین ایئر نے مشکوک لائسنس رکھنے والے پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی تنخواہیں بند کر دی ہیں۔
ایئرلائن کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ان پائلٹس کی تنخواہیں 29 جون سے اس وقت تک بند رہیں گی جب تک ان کے لائسنس کا معاملہ حل نہیں ہو جاتا۔
اس سے قبل ایوی ایشن ڈویژن نے نجی فضائی کمپنیوں کو ان 10 پائلٹس کی فہرست مہیا کی تھی جن کے لائسنس مشکوک تھے، ان میں سے 3 پائلٹس نے ایئرلائن چھوڑ دی ہے جبکہ بقیہ گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔