کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر لیے گئے از خود نوٹس کیس میں صوبہ پنجاب نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔
سپریم کورٹ نے ٹڈی دل حملوں اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بھی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹڈی دل کے خاتمے کے سلسلے میں نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی جبکہ پنجاب حکومت نے مالی سال 2020-21 میں صوبے بھر میں نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 46 کروڑ 80 لاکھ سے زائد رقم مختص کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ رقم میں سے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے محکمہ زراعت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ملتان میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے 706 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
پنجاب حکومت کے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے ادویات کی فہرست ڈریپ کی گائیڈ لائینز کے مطابق مرتب کی گئی ہے، ڈیٹول سمیت اہم ادویات کی مارکیٹ میں فراہمی کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔
صوبائی حکومت نے بتایا ہے کہ صوبے میں ادویات کی کمی نہیں، اس حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد ہیں، اگر ادویات کی کمی کا سامنا ہوا تو اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے میکنزم تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق کورونا پھیلاؤ کو سامنے رکھتے ہوئے صوبے میں نامزد فارمیسی کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے، موجودہ صورتحال میں 21 اضلاع میں نامزد فارمیسی سروس فراہم کر رہی ہیں، صوبے میں آکسیجن اور دیگر ادویات کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبے میں کام کرنے والے سینیٹری ورکرز کو 30 جون تک تنخواہیں ادا کردی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مون سون موسم کے لیے پی ڈی ایم اے نے حفاظتی اقدامات کئے ہیں، فلڈ کنٹرول روم کے قیام سمیت سیلابی بندوں کا معائنہ حفاظتی اقدامات میں شامل ہے۔
فیصل آباد کے علاقے رضا آباد سے متعلق تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ تین مرکزی بازاروں اور 25 گلیوں پر مشتمل ہے، اس میں ڈرینج کا نظام پرانا ہے، علاقے کے ڈرینج سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے مارچ 2020 میں کام شروع کیا جو کورونا کی وجہ سے رک گیا تھا مگر دوبارہ کام 21 جون سے شروع کردیا گیا ہے جو جلد مکمل ہو جائیگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واسا لاھور، فیصل آباد، ملتان، پنڈی، گجرانوالا کے شھری علاقوں میں واٹر سپلائی، سیوریج سسٹم کی بہتری کے لیے پلان تیار کرلیا ہے۔