پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے وقت مانگ لیا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ ان کا عدالت عظمیٰ کا 19جون کا مختصر فیصلہ چیلنج کرنے کا ارادہ ہے، اس لیے انہیں فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست کی تیاری کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی تھی اور عدلیہ کی آزادی کی خاطر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا تھا۔
پی بی سی نے درخواست میں کہا ہے کہ بار کونسل صدارتی ریفرنس اور جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے تاہم وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کا معاملہ انکوائری کے لیے ایف بی آر کو بھجوانے پر مطمئن نہیں ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 10 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کو متفقہ طور پر کالعدم قرار دیا جس کے بعد معاملہ ایف بی آر کو بھجوانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکومتی ادارہ ہے جس سے آزاد اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی توقع نہیں، حقائق اور حالات کے پیش نظر فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے یہ اچھا مقدمہ ہے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کرنے کے لیے پاکستان بار کونسل کو دو ہفتوں کا وقت دے دیا۔