حکومت نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثے عوام کے سامنے پیش کر دیے گئے۔
وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ عمران خان کی ہدایت پر ان کے تمام مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثے اور ان کی شہریت کی تفصیلات کیبنٹ ڈویژن کی ویب سائیٹ پر ڈال دیے گئے ہیں۔
ویب سائیٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی میں سے 6 کے پاس دہری شہریت ہے۔
ملک امین اسلم ایک کروڑ 40 لاکھ 48 ہزار روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ عبدالرزاق داؤد کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب 75 کروڑ 68 لاکھ سے زائد ہے۔
اسی طرح مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے اثاثوں کی مالیت 29 کروڑ 70 لاکھ ہے، ثانیہ نشتر کے اکاؤنٹ میں 6 لاکھ 47 ہزار 853 روپے ہیں، ان کے پاس 5 لاکھ مالیت کا سونا موجود ہے اور وہ 2 کروڑ روپے کی مقروض ہیں۔
شہزاد اکبر کے اثاثے 5 کروڑ روپے سے زائد ہیں، ندیم افضل چن کے پاس کینیڈا میں مستقل رہائش کا اجازت نامہ جبکہ ندیم بابر امریکی شہری ہیں، معاون خصوصی ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس کے پاس کینیڈا، سنگاپور کی شہریت ہے۔
ڈاکٹر شہباز گل کے مجموعی اثاثے 11 کروڑ سے زائد ہیں، وہ امریکا کے گرین کارڈ ہولڈر بھی ہیں اور وہ پاکستان میں ایک پلاٹ، فارم ہاوس اور بیرون ملک ایک گھر کے مالک ہیں۔
اسی طرح زلفی بخاری برطانوی شہری اور شہزادہ سید قاسم کے پاس امریکی شہریت موجود ہے۔
ندیم بابر کے بیرون ملک 2 درجن سے زائد کمپنیز میں شیئرز ہیں، وہ پاکستان میں 12 کروڑ 97 لاکھ روپے کی کمرشل اراضی کے مالک ہیں
کیبنٹ ڈویژن کی ویب سائیٹ کے مطابق زلفی بخاری کے پاس پاکستان میں کئی پلاٹس اور زرعی زمینیں ہیں اور ان کے لندن میں اربوں روپے کے اثاثے موجود ہیں۔
وفاقی وزیر اسد عمر نے ٹویٹر پر اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شفافیت اور احتساب کا ایک بار پھر نیا معیار مقرر کر دیا گیا ہے۔