سپریم کورٹ میں کورونا وائرس ازخودنوٹس کیس میں سندھ حکومت نے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجٹ میں 3 ارب 87 کروڑ 12 لاکھ سے زائد رقم گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص کی گئی ہے، جس میں پولیس کی گاڑیوں کی خریداری کے لیے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 742 ملین روپے سے زائد رقم بورڈ آف ریونیو کی گاڑیوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 293.790 ملین روپے قانون و پارلیمانی امور اور ججز کی گاڑیوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اسی طرح 134 ملین روپے محکمہ زراعت، 69.181 ملین روپے صحت جبکہ 632.256 ملین روپے دیگر 27 محکموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت سندھ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ صوبے کے سالانہ بجٹ کا تخمینہ 1241.1257 ارب روپے ہے،گاڑیوں کے لیے مختص کی گئی رقم کل بجٹ کا 0.31 فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ نے 24 جون کو پاکستان میں بننے والی نئی گاڑیوں اور درآمد کی گئی گاڑیوں پر پابندی عائد کی۔
حکومت سندھ کا کہنا تھا کہ نئی گاڑیوں پر پابندی کا اطلاق ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ دونوں پر ہوگا، ضرورت کے تحت نئی گاڑیوں کی خریداری کے حوالے سے پابندی ہٹانے کا اختیار صوبائی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین مالیاتی سالوں کے دوران سندھ حکومت نے گاڑیوں کے لیے 9 ارب 26 کروڑ 78 لاکھ روپے مختص کیے گئے جن میں سے 79 کروڑ 56 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔
سندھ حکومت کی رپورٹ میں اخراجات کے لیے مختص بجٹ کی تین سالوں کی تفصیلات بھی جمع کرائی گئی ہیں۔
سندھ حکومت نے بتایا کہ کراچی کی ترقی کے لیے 45 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، کراچی بی آر ٹی منصوبے کی مجموعی لاگت 62 ارب 67 کروڑ روپے ہے جس میں رواں سال 1980 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے تعلیم کے لیے 21 ارب 8 کروڑ بیس لاکھ روپے مختص کیے ہیں، تعلیم کے لیے مختص کی گئی رقم مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 13.6 فیصد ہے۔
اسی طرح سندھ حکومت نے صحت کے لیے 28 ارب 98 کروڑ روپے رکھے ہیں، سندھ حکومت کا صحت کے لیے مختص بجٹ مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 18.76 فیصد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ واٹر سپلائی اور نکاسی آب کے لیے 18 ارب ستر کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
کورونا وبا کے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 23 جون سے 17 جولائی تک کورونا کیسز 72 ہزار 656 سے بڑھ کر ایک لاکھ 11 ہزار 238 ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سندھ نے کورونا مریضوں کی صحت یابی کی شرح 79 فیصد تک پہنچ گئی ہے، صوبے بھر میں 88 ہزار 103 مریض صحتیاب ہوئے جبکہ 1952 اموات ہو چکی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ میں جان بچانے والی ادویات کے مہنگے داموں فروخت پر سخت ایکشن ہو رہا ہے، اس حوالے سے انتظامیہ 19 لاکھ 29 ہزار روپے کے جرمانے کر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن میں 15 اگست تک توسیع کر دی ہے، عیدالاضحیٰ کے حوالے سے ایس او پیز بنا دیے ہیں۔
