اسلام آباد ہائی کورٹ نے کاون ہاتھی کو کمبوڈیا بھجوانے کے حکمنامے میں وزیراعظم عمران خان کی نیک نیتی کو سراہا ہے اور انکی جنگلی حیاتیات کے تحفظ اور انکے حقوق بارے خیالات و اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے نتیجہ میں وفاقی حکومت نے کاون ہاتھی کو اسلام آباد چڑیاگھر سے نکال کر کمبوڈیا بھجوانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
کاون ہاتھی کو گزشتہ تین دہانیوں سے چڑیا گھر میں انتہائی ابتر حالت میں رکھا گیا تھا جو قریب المرگ تھا۔ تاہم میڈیا میں خبریں آنے کے بعد ہاتھی کی آزادی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
عدالت نے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان کو ایسی ہمدردی دکھانے پر سراہتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف عدالتی فیصلہ کو تسلیم کیا بلکہ یہ بھی تسلیم کیا کہ جانوروں کو بھی حقوق حاصل ہیں اور انسانوں کا فرض ہے کہ وہ جانوروں کے حقوق کی حفاظت کریں تاکہ انہیں ناپید ہونے سے بچایا جا سکے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اور ان کی حکومت نے عدالتی فیصلے کی توثیق کرکے ریاست پاکستان کو دیگر ممالک میں جنگلی حیاتیات کے حقوق بارے نمایاں مقام دلایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ چڑیا گھر تو بادشاہی نظام کی علامت ہے۔ پرانے وقتوں میں بادشاہ چڑیا گھروں کا استعمال اپنی طاقت دکھانے کیلئے کرتے تھے، انسان کی طاقت کمزوروں کی حفاظت کرنا ہے، ان کو ختم کرنا نہیں، انسانوں کو جانوروں کے رہنے کے ماحول کی حفاظت کرنا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ جانور ناپید نہیں ہو رہے، انسان ہو رہے ہیں، اگر انسانوں نے ناپید ہونے سے بچنا ہے تو جانوروں کے رہنے کے ماحول کی حفاظت کرنا ہوگی۔
عدالت نے کہا ہے کہ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ جانوروں کے بھی جذبات ہوتے ہیں لہٰذا چڑیاگھر میں قید کر کے انہیں تکالیف نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے کہا ہے کہ اس کیس میں طے کردہ اصولوں کو پاکستان سے باہر بھی عدالتی فورمز پر پزیرائی ملی اور ان اصولوں کو نیویارک کی سپریم کورٹ میں بطور دلائل پیش کیا گیا۔
وفاقی حکومت نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ وزارت ماحولیات کو جانوروں کے بہتر ماحول اور انکی حفاظت کے لیے اسلام آباد چڑیاگھر کی تجدید کاری کا کام سونپا گیا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور وائلڈ لائف مینجمنٹ اس اصول کو نظرانداز نہیں کریں گے کہ مصنوعی طور پر تیار کی گئی جگہ قدرتی مسکن کا متبادل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ جانوروں کے طرز عمل ، معاشرتی اور جسمانی ضروریات کے لیے ماحول مہیا کرسکتا ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ ہر جانور ایک مخصوص قدرتی مسکن میں زندہ رہتا ہے جس میں رہتے ہوئے اسے کوئی اذیت نہیں ہوتی۔
عدالت نے کہا ہے کہ چونکہ وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت سے فیصلہ پر عملدرآمد کے حوالے سے مطمئن ہیں لہٰذا نظرثانی یا توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
عدالت نے فیصلے میں چیئرمین وائلڈ لائف منیجمنٹ ڈاکٹر انیس الرحمن کے رونے کا ذکر بھی کیا اور کہا ہے کہ وہ چڑیاگھر میں جانوروں کی ابتر حالت زار پر اپنے آنسو نہ روک سکے۔