راولپنڈی کے تھانہ ایئرپورٹ میں 29 جون کو صدف زہرا کی پرسرار موت کے کیس میں ابھی تک پیش رفت نہیں ہو سکی، 21 روز گزرنے کے باوجود پولیس تفتیش مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ فرانزک رپورٹ بھی اتنے دن بعد نہیں آئی۔
صدف زہرا کی بہن ڈاکٹر مہوش زہرا نے نقارخانہ سے بات کرتے ہونے بتایا کہ انھوں نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو علی سلمان علوی کے خلاف درخواست دے دی ہے جس پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ درخواست کے ساتھ تمام ڈیٹا اور ثبوت بھی ایف آئی اے کو جمع کرا دیے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ علی سلمان نے ٹوئٹر پر بے شمار جعلی اکاونٹ بنا رکھے تھے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرتا تھا اور ان سے پیسے بٹورتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ علی سلمان علوی کی تمام میسنجر چیٹ اور ویڈیو کا ریکارڈ ایف آئی اے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر مہوش نے پولیس اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس مقدمے کی میرٹ پر تفتیش کی جائے اور ملزم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے نقارخانہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے، امید ہے کہ رپورٹ پولیس کو جلد موصول ہو جائے گے جس کے بعد پولیس اس کی روشنی میں تفتیش مکمل کرے گی اور مقدمہ کا چالان کورٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق ملزم علی سلمان 22 جولائی تک جوڈیشنل ریمانڈ پر ہے، پولیس اس کے ریمانڈ میں توسیع کے لیے عدالت سے درخواست کرے گی۔
یولیس ترجمان نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جارہی ہے اور پولیس کے اعلیٰ حکام اس مقدمے کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ صدف زہرا کیس میں ان کا خاوند علی سلمان علوی قتل کے الزام میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، اس مقدمہ میں صدف زہرا کی بہن ڈاکٹر مہوش مدعی ہیں۔
انہوں نے علی سلمان علوی پر اپنی بہن کو قتل کرنے کی ایف آر درج کرا رکھی ہے تاہم 21 روز گزرنے کے باوجود پولیس تفتیش مکمل کرنے میں ناکام ہے، مقدمے کا مکمل چالان بھی ٹرائل کورٹ میں پولیس کی جانب سے جمع نہیں کرایا گیا۔
یاد رہے کہ ملزم علی سلمان علوی ایک نیوز چینل میں کرنٹ افئیرز پروگرام کا پروڈیوسر اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور بلاگر بھی تھا۔
صدف زہرا قتل کیس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر 9 روز تک خبر روکنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا صارفین جسٹس فار صدف کا ٹرینڈ بھی چلا رہے ہیں۔