جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے بھی 44 صفحات پر مشتمل نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے۔
اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے پر نظر ثانی کر کے 19 جون کے عبوری حکم کو ختم کرے۔
انہوں نے درخواست میں کہا ہے کہ ایف بی آر نے اہل خانہ کے خلاف کارروائی تفصیلی فیصلے سے پہلے ہی شروع کر دی، ایف بی آر کی درخواست گزار کی رہائش گاہ کے باہر نوٹس چسپاں کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔
پاکستان بار کونسل نے جسٹس عیسیٰ کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے وقت مانگ لیا
جسٹس عیسیٰ نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ حکومتی تحریری دلائل پر جواب جمع کرانے کا موقع دیا جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان بار کونسل نے بھی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے وقت مانگا تھا۔
اپنی درخواست میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا عدالت عظمیٰ کا 19جون کا مختصر فیصلہ چیلنج کرنے کا ارادہ ہے، اس لیے انہیں فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست کی تیاری کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی تھی اور عدلیہ کی آزادی کی خاطر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا تھا۔
پی بی سی نے درخواست میں کہا ہے کہ بار کونسل صدارتی ریفرنس اور جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے تاہم وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کا معاملہ انکوائری کے لیے ایف بی آر کو بھجوانے پر مطمئن نہیں ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 10 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کو متفقہ طور پر کالعدم قرار دیا جس کے بعد معاملہ ایف بی آر کو بھجوانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکومتی ادارہ ہے جس سے آزاد اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی توقع نہیں، حقائق اور حالات کے پیش نظر فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے یہ اچھا مقدمہ ہے۔