• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جسٹس عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی

by sohail
جولائی 20, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے بھی 44 صفحات پر مشتمل نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے۔

اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے پر نظر ثانی کر کے 19 جون کے عبوری حکم کو ختم کرے۔

انہوں نے درخواست میں کہا ہے کہ ایف بی آر نے اہل خانہ کے خلاف کارروائی تفصیلی فیصلے سے پہلے ہی شروع کر دی، ایف بی آر کی درخواست گزار کی رہائش گاہ کے  باہر نوٹس چسپاں کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے جسٹس عیسیٰ کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے وقت مانگ لیا

جسٹس عیسیٰ نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ حکومتی تحریری دلائل پر جواب جمع کرانے کا موقع دیا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان بار کونسل نے بھی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے وقت مانگا تھا۔

اپنی درخواست میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا عدالت عظمیٰ کا 19جون کا مختصر فیصلہ چیلنج کرنے کا ارادہ ہے، اس لیے انہیں فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست کی تیاری کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی تھی اور عدلیہ کی آزادی کی خاطر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا تھا۔

پی بی سی نے درخواست میں کہا ہے کہ بار کونسل صدارتی ریفرنس اور جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے تاہم وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کا معاملہ انکوائری کے لیے ایف بی آر کو بھجوانے پر مطمئن نہیں ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 10 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کو متفقہ طور پر کالعدم قرار دیا جس کے بعد معاملہ ایف بی آر کو بھجوانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکومتی ادارہ ہے جس سے آزاد اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی توقع نہیں، حقائق اور حالات کے پیش نظر فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے یہ اچھا مقدمہ ہے۔

Tags: جسٹس قاضی فائز عیسیٰسپریم کورٹ آف پاکستاننظرثانی کی درخواست دائر
sohail

sohail

Next Post

وزیراعظم کی دعوت پر ٹرمپ کو بھی کابینہ اجلاس میں بلایا جا سکتا ہے، زلفی بخاری

2018 کے انتخابات شفاف نہیں تھے، معید یوسف کا پرانا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل

فوجی عدالتوں سے سزایافتہ 196 افراد کی ضمانت پر رہائی کا حکم معطل

حکومت کا بیگو لائیو ایپ پر پابندی کا فیصلہ، ٹک ٹاک کو آخری وارننگ دے دی

مالی سال 2020 میں جاری کھاتوں کے خسارے میں 78 فیصد کمی، اسٹیٹ بینک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In