وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا ہے کہ دہری شہریت کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر لیا گیا، وزیراعظم کی دعوت پر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی کابینہ اجلاس میں مدعو کیا جا سکتا ہے۔
وزارت اوورسیز کے ترجمان غیاث انور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زلفی بخاری نے اسلام آباد میں صحافیوں سے خصوصی ملاقات میں کہا کہ شہباز گل، معید یوسف، ندیم افضل کے پاس غیرملکی پاسپورٹ نہیں، فرض کیجئے کوئی مشیر غیر ملکی رہائش رکھتا ہے تو بتایا جائے کہ قانون کہاں ٹوٹا؟
انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں کسی کو بھی مدعو کیا جا سکتا ہے، وزیراعظم کی دعوت پر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی کابینہ اجلاس میں بلایا جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے معاملے سے میرا کچھ لینا دینا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانیز کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قانون سازی میں مزید ترمیم کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں قانون سازی متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی زبردست حکمتِ عملی کے باعث کورونا سے کم نقصان ہوا، ہمیں وزیراعظم کی حکمتِ عملی پر فخر ہونا چاہیے۔
زلفی بخاری نے کہا کہ میرے خاندان کی بنیاد پاکستان میں ہے، اوور سیز پاکستانی غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سرمایہ کاری نہ کریں، ایسی کسی سرمایہ کاری کی حکومت ذمہ دار نہ ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی غیر قانونی کام سے لینا دینا نہیں، غیر قانونی طور پر نام استعمال کیا جاتا ہے، اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے۔
زلفی بخاری نے واضح کیا کہ پی ٹی ڈی سی ڈاﺅن سائزنگ واپس نہیں ہو گی، بہتر ہے کہ ملازمین گولڈن ہینڈ شیک لیں، توڑ پھوڑ احتجاج سے ادارے میں اصلاحات نہیں رکیں گی۔
ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ کیا جہانگیر ترین وزیراعظم سے ناراض ہیں؟ زلفی بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ ناراض وزیراعظم کو ہونا چاہیے یا جہانگیر ترین کو؟
انہوں نے کہا کہ مجھے جہانگیر ترین کی نواز شریف سے ملاقات کا علم نہیں، ان کے معاملے سے میرا کچھ لینا دینا نہیں۔