اس وقت جو کورونا وائرس دنیا میں تباہی پھیلا رہا ہے وہ اس سے بہت مختلف ہے جس کا آغاز چین سے ہوا تھا، یہ مسلسل اپنی ہیئت تبدیل کر رہا ہے اور اب تک سائنسدان اس کی ہزاروں تبدیلیوں سے آگاہ ہو چکے ہیں تاہم ان جینیاتی تبدیلیوں میں سے ایک سب سے منفرد ہے۔
سائنسدانوں کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلیاں وائرس کو مزید پھیلنے والا اور زیادہ خطرناک بنا رہی ہیں اور کیا مستقبل میں تیار ہونے والی ویکسین کی کامیابی بھی خطرے میں ہے؟
اس حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ چونکہ انسانی جسم اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت نہیں رکھتا اور کوئی ویکسین بھی ابھی تک میسر نہیں ہے اس لیے کورونا وائرس پر اپنی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے کوئی دباؤ موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں بہت آہستگی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
کورونا وائرس کی سب سے زیادہ خطرناک تبدیلی کو D614G کا نام دیا گیا ہے، اسی کی وجہ سے وہ پروٹین پیدا ہوتی ہے جو انسانی خلیوں کو توڑ کر وائرس کو ان میں داخل ہونے کا موقع دیتی ہے۔
ووہان سے شروع ہونے والی وبا کے کچھ عرصہ بعد اس میں یہ تبدیلی آئی تھی اور شاید اٹلی میں اس کا آغاز ہوا تھا۔
اس وقت وائرس کی اسی تبدیل شدہ شکل کے نمونے 97 فیصد کیسز میں سامنے آئے ہیں۔
وائرس کے ارتقا کا کیا مطلب ہے؟
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ وائرس کا کوئی بڑا منصوبہ نہیں ہوتا، یہ قدرتی طور پر مسلسل اپنی ہیئت تبدیل کرتے رہتے ہیں، یہ تبدیلیاں کبھی انہیں خود کو بڑھانے میں مدد دیتی ہیں تو کبھی اس میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
وبائی امراض کے ماہرین کی زیادہ تر تعداد اب اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ موجودہ وائرس اپنی سابقہ شکل کی نسبت زیادہ پھیلنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، تاہم کئی سائنسدان اس سے اختلاف کرتے ہیں۔
سکرپس یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر ہیریوں چو کہتے ہیں کہ جب اس تبدیل شدہ وائرس کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا گیا تو اس میں سابقہ شکل کی نسبت انسانی خلیوں میں داخل ہونے کی زیادہ صلاحیت پائی گئی۔
اس میں موجود وائرس ایک کانٹے کی طرح ابھرتی ہے جو اسے انسانی خلیے سے چمٹنے اور زیادہ مستعدی سے کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔
لیب تجربات کے نتائج
نیویارک جینوم سنٹر کے پروفیسر نیول سنجنا ایک قدم اور آگے گئے ہیں، انہوں نے لیبارٹری میں کورونا وائرس کی ہییت میں تبدیلی کی اور اس کا ابتدائی شکل والے وائرس سے موازنہ کیا۔
اس تجربے کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ نئی شکل و صورت والے وائرس میں پھیلنے کی صلاحیت کہیں زیادہ ہے۔
اسی طرح دو مختلف تجربات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو مریض نئی شکل والے وائرس سے متاثر ہوئے تھے ان کے لعاب کے نمونوں میں کورونا وائرس کی تعداد بہت زیادہ تھی۔
اس بات کا کافی امکان ہے کہ اس تبدیل شدہ وائرس کے مریض ابتدائی وائرس کے مریضوں کی نسبت وبا کو زیادہ پھیلاتے ہوں گے۔ لیکن اس حوالے سے کوئی بڑی ریسرچ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
کیا تبدیل شدہ وائرس زیادہ خطرناک ہے؟
اب تک کے تجربات سے اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ اپنی شکل تبدیل کرنے والا کورونا وائرس زیادہ خطرناک ہے، زیادہ تر کیسز میں معاملہ اس کے برعکس نکلا ہے۔
ان تمام معاملات کے ایک طرف رکھ کر یہ بات بطور حقیقت ثابت ہو چکی ہے اس وقت دنیا پھیلی وبا کا ذمہ دار نئی شکل و صورت والا وائرس ہے۔
جہاں تک ویکسین کا معاملہ ہے تو اس بات کی کچھ شہادتیں ملی ہیں کہ نیا کورونا وائرس انسانی جسم میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز سے اسی طرح متاثر ہوتا ہے جتنا ابتدائی وائرس۔
یہ ایک اچھی خبر ہے کیونکہ یہ اینٹی باڈیز کورونا سے صحتیاب افراد کے جسم میں پیدا ہو جاتی ہیں یا پھر ویکسین کے ذریعے انہیں پیدا کیا جائے گا۔
پاکستان میں کرونا کے ایکٹیو کیسز اس وقت 56 ہزار کے لگ بھگ ہیں، جن میں سے بیشتر صحتمند ہونے کے قریب تر ہیں، مگر موقع پھر عید کا آگیا ہے اور امتحان دوبارہ سے عوام کی جہالت کا ہونا ہے، اسلئیے اس عید کو بھی چھوٹی عید کی طرح لاپرواہی میں نہ گزاریے گا ورنہ 15,20 دن بعد ویسا ہی حال ہوگا کہ پورا ملک ایمرجنسی میں ہوگا اور بہت سارے پیارے اور اپنے ہم سے بچھڑ جائینگے، جہانزیب