معروف صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے اغوا کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کرنے والوں نے بار بار ان پر تشدد کیا اور کسی عمارت میں بند رکھا۔
اپنے تفصیلی بیان میں مطیع اللہ جان نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کو اسکول پہنچا کر ساتھ ہی ایک درخت کے نیچے گاڑی میں بیٹھے تھے کہ اچانک ماسک لگائے ایک شخص نے مجھے ڈرائیونگ سیٹ سے گھسیٹ لیا، میں نے دیکھا کہ انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے علاوہ کچھ مسلح و غیر مسلح سادہ لباس میں سات آٹھ افراد مختلف گاڑیوں سے نکلے اور مجھے زدوکوب کرتے ہوئے ایک گاڑی میں بٹھا دیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ میں بار بار ان سے پوچھتا رہا کہ میرا جرم کیا ہے اور وارنٹ گرفتاری کہاں ہیں لیکن کوئی جواب نہ آیا، میں نے اس دوران اپنا موبائل اسکول کے اندر اچھال دیا تاکہ میری اہلیہ کو اس واقعہ کا علم ہو سکے، اس کے بعد انسداد دہشت گردی فورس کے لوگ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی کلائیوں پر ہتھکٹری باندھ دی گئی اور سر سے گردن تک سیاہ کپڑے کا تھیلا چڑھا کر چہرہ گاڑی کے فرش کی طرف کر دیا، میری آنکھوں پر بھی کس کر سیاہ پٹی باندھ دی گئی۔
مطیع اللہ جان نے بتایا کہ میں نے گھٹن محسوس ہونے پر شور مچایا تو کپڑا ناک سے اوپر کر دیا گیا، اس دوران ان کی کمر پر مکے برسائے گئے اور دھمکیاں دی گئیں کہ جو کچھ تم کرتے ہو اب تمہیں بتائیں گے۔
واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار پانی مانگنے پر ایک چھوٹی سی بوتل انہیں تھمائی گئی اور آدھے گھنٹے بعد ایک جیل نما کمرے میں پھینک دیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ بار بار اپنا جرم پوچھتے رہے مگر جواب میں اتنا کہا گیا کہ تمہیں سمجھ نہیں آتی، ہم ابھی تمہیں سمجھائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کمرے میں بھی میرے اوپر تشدد کیا گیا اور آنکھوں پر پٹی ہٹانے پر مارا گیا، وہاں میرے بچوں کے نام لے کر دھمکایا گیا اور بار بار یہی کہا جاتا رہا کہ تم سمجھدار ہو۔
مطیع اللہ نے بتایا کہ کئی گھنٹوں بعد ان کے چہرے پر کس پر پٹی باندھ دی گئی اور ہاتھ کلائیوں کی طرف کر کے ان میں ہتھکڑی لگا دی گئی اور ایک مرتبہ پھر گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔
ان کے مطابق انہیں کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ یہ لوگ انہیں نہیں چھوڑیں گے۔
مطیع اللہ جان نے بتایا کہ اس دوران گاڑی سے لوگ اترتے اور چڑھتے رہے اور وہ سرگوشیوں میں بات کرتے رہے، وہ میری کسی بات کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک گھنٹے بعد گاڑی روک کر انہوں نے جھاڑیوں والی جگہ سے گزارنا شروع کر دیا، میں نے دل ہی دل میں کلمہ پڑھنا شروع کر دیا، مجھے جھاڑیوں میں لٹا کر بناوٹی پشتون لہجے میں نام پوچھا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اس دوران میرے منہ پر چپکی ٹیپ کچھ نرم ہو چکی تھی، میں نے زور لگا کر اپنا نام بتایا تو انہوں نے کہا کہ تم زرک خان نہیں ہو؟ میں نے کہا کہ میں مطیع اللہ جان ہوں اور ایک صحافی ہوں۔
انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ میرے ہاتھوں سے ہتھکڑی اتار کر میرے سر پر زور سے ضرب لگائی گئی اور میں نے ایسے ظاہر کیا جیسے میں بیہوش ہو گیا ہوں۔
مطیع اللہ جان کے مطابق اس کے بعد وہ لوگ چلے گئے اور میں نے بمشکل اپنی آنکھوں سے پٹی کھولی اور پیدل چلنا شروع کر دیا۔ کافی دیر بعد پاک فوج کی ایک چیک پوسٹ نظر آئی جہاں میں نے اپنا تعارف کرایا اور وہیں بیٹھ گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران ایک مسافر ویگن رکی تو میں نے ایک مسافر سے موبائل فون مانگا تو اس نے میرے بھائی ایڈووکیٹ شاہد اکبر عباسی کا نمبر ملا دیا۔ میں نے انہیں اپنی خیریت سے آگاہ کیا تو انہوں نے وہیں انتطار کرنے کا کہا۔
مطیع اللہ جان کے مطابق اس دوران پاک فوج کے سینئر اہلکار پہنچے تو انہوں نے گھر پہنچانے کے لیے سواری کی پیشکش کی مگر میں نے بتایا کہ میرا بھائی لینے آ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹے بعد میرے بھائی وہاں پہنچ گئے اور فوجی افسروں نے تصدیق کر کے مجھے جانے دیا اور میں رات بارہ بجے اپنے بھائی کے گھر پہنچ گیا۔
مطیع اللہ جان نے اپنے بیان میں کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا تعلق براہ راست سپریم کورٹ میں جاری توہین عدالت کے کیس سے ہے، مجھے پیشی سے ایک دن قبل اغوا کر کے اپنا منہ بند رکھنے کا کہا گیا ہے۔