اسلام آباد ہائی کورٹ نے آن لائن گیم پب جی پر پابندی ختم کرتے ہوئے اس کی فوری بحالی کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس عمر فاروق نے اپنے حکم میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پب جی کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی اے نے ایک اعلامیے میں بتایا تھا کہ پب جی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے کہا تھا کہ پب جی انتظامیہ سے تفصیلات طلب کی گئی تھیں جن میں پب جی کے سیشنز، استعمال کنندگان کی تعداد اور دیگر معلومات شامل تھیں مگر پب جی انتظامیہ نے مطلوبہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
پی ٹی اے کا آن لائن گیم پب جی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ
اعلامیے میں بتایا گیا کہ کمپنی کے نافذکردہ کنٹرولز کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں تاہم پب جی انتظامیہ کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کے بعد اس گیم پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل پی ٹی اے پب جی پر پابندی کا عارضی فیصلہ کیا تھا، پی ٹی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مختلف حلقوں سے ملنے والی شکایات کے بعد کیا گیا ہے۔
انہوں نے پب جی کھیلنے والے نوجوانوں کی خودکشی کے حوالے سے کہا تھا کہ لاہور میں گیم کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر دو بچوں نے خودکشی کر لی تھی جن کے ورثاء نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں پی ٹی اے کو اس معاملے کو دیکھنے اور فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔