86 برس بعد جب نماز جمعہ کے لیے آیا صوفیہ کو کھولا گیا تو لوگوں کا جم غفیر ادائیگی نماز کے لیے امڈ آیا۔
استنبول کے گورنر نے بتایا کہ مسلمان بہت پرجوش ہیں، ہر کوئی اس میں شرکت کا خواہشمند ہے۔

آیا صوفیہ کے اندر صرف ایک ہزار افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ باقی افراد نے باہر نماز ادا کی، طیب اردوان خود بھی اس موقع پر موجود تھے۔

آیا صوفیہ کے اندر فیروزی قالین بچھایا گیا جبکہ عیسائیوں کے مذہبی آثار کو پردوں سے اور روشنی کم کر کے چھپا دیا گیا تھا۔

1934 میں ترک حکومت نے اسے مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا تھا، رواں ماہ صدر طیب اردوان نے اس میں نماز کی ادائیگی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ترک حکومت کے اس فیصلے پر کئی عالمی رہنماؤں نے تنقید کی تھی، ترکی کے اندر بھی حزب اختلاف کی سیکولر جماعتوں نے اسے ایک سیاسی شعبدہ بازی قرار دیا تھا۔
گزشتہ روز گورنر نے ٹی وی پر خطاب کے دوران عوام سے ماسک اور جائے نماز ساتھ لانے کا کہا تھا، انہوں نے ہیلتھ ورکرز کو بھی موقع پر موجود رہنے کا کہا تھا۔