جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو جلد فنکشنل بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے بڑا فیصلہ کرلیا ہے، مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بعد محکمہ خزانہ پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے مختلف درجات کی 96 آسامیوں سمیت تنخواہوں و دیگر مراعات کی ادائیگیوں کے لیے 60 کروڑ روپے (599.698 ملین) روپے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی۔
صوبائی حکومت کی منظوری کے پیش نظر محکمہ خزانہ یہ فنڈز رواں مالی سال 2020-21 کے لیے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی مد میں عارضی بنیادوں پر جاری کرے گا۔
ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے جن 96 آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے ان میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب کی ایک، سیکرٹری کی ایک ، ایڈیشنل سیکرٹریز کی 2 اور ڈپٹی سیکرٹریز کی 6 آسامیوں کے علاوہ سسٹم انالسٹ کی ایک، سیکشن آفیسر کی 7، اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کی ایک، پرایؤیٹ سیکرٹریز کی 2 ، سپرنٹنڈنٹ کی 2، پروٹوکول آفیسر کی ایک آسامی ،پروگرامر کی 2، اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر کی ایک اور اسسٹنٹ کی 5 آسامیوں کی منظوری بھی جاری کی گئی۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب گریڈ 20 سے اسسٹنٹ گریڈ 17 تک کی 32 اسامیوں کو تنخواہوں کی مد میں ادائیگی کے لیے 23.641 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی ۔
ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے سینئر کلرک کی 3، کمپوزر کی 2، ڈیٹا انٹری آپریٹر کی 10، ہارڈ وئیر ٹیکنیشن کی ایک، نیٹ ورک ٹیکنیشین کی 2، ٹیلی فون ٹیکنیشین کی ایک، جونیئر کلرک کی 2، الیکٹریشن کی ایک، ہیڈ مالی کی ایک، ویٹر کی 2، ڈرائیور کی 12، ڈسپیچ رائیڈر کی 2، باروچی کی 4، چوکیدار کی 4، مالی کی ایک، نائب قاصد کی 10 اورسینٹری ورکر/خاکروب کی 6 آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
سینئر کلرک گریڈ 14 سے سینٹری سپروائزر گریڈ ایک تک کی مجموعی 64 آسامیوں پر تعینات ہونے والے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 15.323 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
منظور شدہ رقم سے تنخواہ، یوٹیلٹی الاؤنس، آفس بلڈنگ اور فرنیچر کی خریداری کے لیے استعمال ہو گی۔ محکمہ خزانہ پنجاب کی طرف سے منظور کی گئی 60 کروڑ روپے کی گرانٹ سے صوبے کا بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنے اور چلانے کے لیے ایس اینڈ جی اے ڈی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ خزانہ پنجاب کے سیکشن آفیسر (جی۔ ون) حافظ خورشید احمد نے باضابطہ طور پر احکامات جاری کر دیے ہیں۔