وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ پہلا سال ہم حکومت میں مصروف تھے معلوم ہی نہیں تھا کہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ بھی ہونا ہے، ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرا سکا، تاخیر پر معافی مانگتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 2018ء اور 2019ء کے ٹیکس ریٹرنز اس ہفتے فائل ہو جائیں گے، پاکستان میں میری 13 سو کنال زمین سے کوئی آمدنی نہیں، کورونا وبا کی وجہ سے بھی ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے میں تاخیر ہوئی، وزارت سے ملنے والی تنخواہ شوکت خانم اور ڈیم فند میں عطیہ کر دیتا ہوں۔
زلفی بخاری نے مزید کہا کہ میں 2018ء میں پاکستان آیا تھا اور اسی وقت سے یہاں ہوں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر غریدہ فاروقی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے پچھلے 4 ماہ سے دفاتر بند تھے، ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کے لیے وکیل، اکاﺅنٹنٹ کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے تاخیر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ میں ٹیکس ریٹرنز فائل کر رہا ہوں لیکن میری یہاں کوئی آمدنی نہیں ہے، میں کچھ نہیں چھپا رہا۔
اپنی دہری شہریت کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے یہ ٹوپی ڈرامہ رچایا ہوا تھا کہ دہری شہریت کے معاملے میں حلف اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ بعد میں پاسپورٹ لیتے ہیں تو آپ کو حلف اٹھانا پڑتا ہے لیکن جب آپ وہاں پیدا ہوتے ہیں تو پاسپورٹ پوسٹ کے ذریعے ملتا ہے۔