سپریم کورٹ میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق کیس میں ایف آئی اے نے رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ ملک بھر کی 667 کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سے 279 کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے تمام زونل ہیڈکوارٹرز کو 30 جون تک انکوائریز مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی، 15 جولائی تک زیر التوا انکوائریز کی حتمی رپورٹ کیلئے خط لکھ دیا گیا ہے، وفاق سمیت چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز اور متعلقہ حکام کو غیر قانونی سوسائٹیوں کیخلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت سویلین ایمپلائیز کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کی سابقہ انتظامیہ کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ ملزم محمد نواز نے مسلح افراد کے ساتھ ایف آئی اے ٹیم کیخلاف مزاحمت کی اور فرار ہوگیا، اس سمیت 8 ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی ہے۔
رپورٹ میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ ایف آئی اے ٹیم کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ایف آئی اے نے مزید کہا کہ غیر رجسٹرڈ صوبائی کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیاں ایف آئی اے کے دائرہ اختیارات میں نہیں آتیں لہذا کوآپریٹیو قوانین میں ترامیم کیلئے صوبائی لا افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے اور کمپنیز ایکٹ پر عملدرآمد کیلئے وفاقی حکومت کو فوری نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی جائے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی یا صوبائی سطح پر مرکزی ایجنسی قائم کی جائے جو ملک بھر میں سوسائٹیوں کیخلاف کارروائی کر سکے، سینیٹ میں ریئل اسٹیٹ ایکٹ سے متعلق بل بھی پیش کیا جا چکا ہے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ملوث سرکاری افسران و اہلکاروں کیخلاف کریمنل کاروائی کی ہدایت کی جائے، عدالت صوبائی حدود میں شامل کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کیخلاف کارروائی کیلئے رہنمائی کرے۔