بھارت میں کورونا کے ایسے کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جن میں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ مریض کو وائرس کہاں سے منتقل ہوا ہے، اگر ایسے کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے تو ماہرین صحت اسے کمیونٹی ٹرانسمشن قرار دیتے ہیں اور یہ بہت خطرناک بات سمجھی جاتی ہے۔
جب کوئی ملک اس مرحلے میں داخل ہو جائے تو وبا کو روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور وائرس اپنی مرضی سے ہر طرف پھیلتا جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس مرحلے میں قدم رکھ چکا ہے جبکہ بھارتی حکومت اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کمیونٹی ٹرانسمشن ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی متفقہ تعریف موجود نہیں ہے تاہم کیرالہ اور مغربی بنگال کی ریاستوں نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی اس اصطلاح کی تعریف یہی کی ہے کہ جب بہت بڑی تعداد میں یہ معلوم نہ ہو سکے کہ مصدقہ مریضوں کو وائرس کہاں سے منتقل ہوا ہے تو یہ کمیونٹی ٹرنسمشن سمجھا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جب کمیونٹی ٹرانسمشن کا مرحلہ شروع ہو جائے تو انفرادی کیسز کی پہچان، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور حتیٰ کہ قرنطینہ بھی غیرضروری ہو جاتے ہیں، اس مرحلے پر وائرس کے جغرافیائی پھیلاؤ پر نظر رکھتے ہوئے صحت کی سہولیات کر بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
دوسرے الفاظ میں ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس مرحلے میں وائرس قابو سے باہر ہو جاتا ہے اور اس کا پھیلاؤ مزید نہیں روکا جا سکتا اس لیے انسانی جانیں بچانے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے۔
دہلی کے سر گنگا رام اسپتال کے ڈاکٹر اروند کمار کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جن کی انفیکشن کا سورس معلوم نہیں ہو سکتا اور یہ یقینی طور پر کمیونٹی ٹرانسمشن ہے۔
اب تک بھارت میں 14 لاکھ کے قریب کورونا کے مصدقہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اموات 32 ہزار سے بڑھ چکی ہیں، ڈاکٹر اروند کمار کہتے ہیں کہ اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے، انفیکشن کی شرح بہت اوپر جا رہی ہے، جو چیز آپ کی نظروں کے سامنے ہو، اسے جھٹلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے اہم ترین ڈاکٹر نے حال ہی میں اس حقیقت کو تسلیم کیا لیکن دو روز بعد ایسوسی ایشن نے اسے ڈاکٹر کی ذاتی رائے قرار دے کر رد کر دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں وائرس اس سے کہیں زیادہ پھیل چکا ہے جتنا آج سے ایک ماہ پہلے تھا اور کئی مزید ریاستیں اور گنجان آباد ضلعوں سے یہی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
بھارت کے معروف ماہر وبائی امراض ڈاکٹر شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ حکومت کے خیال تھا کہ وائرس کو بڑے شہروں اور ہاٹ سپاٹس تک محدود رکھا کر مزید علاقوں میں پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور اب کورونا وبا ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق 40 فیصد مریضوں میں وائرس کی منتقلی کا سورس معلوم نہیں ہو سکا، ہمارے پاس اتنے شواہد آ چکے ہیں کہ ہمیں کمیونٹی ٹرانسمشن کو تسلیم کرلینا چاہیئے۔
بھارت میں ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ حکومت سیاسی وجوہات کی بنا پر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وبا تیزی سے کم ہو رہی ہے اور ملک کمیونٹی ٹرانسمشن کے مرحلے میں داخل ہونے سے بچ گیا، یہاں مریضوں میں وائرس کی منتقلی کے سورس عمومی طور پر معلوم تھے۔
(بشکریہ بی بی سی)