عوام کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد ٹیلی ویژن فیس میں حالیہ اضافہ موخر کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تک اسے منسوخ نہیں کیا گیا جس کے باعث خطرے کی تلوار اب بھی سر پر لٹک رہی ہے۔
پی ٹی وی بورڈ کی جانب سے ٹیکس میں اضافے کے لیے وزیراعظم کو بھیجی گئی سمری میں غلط اعدادوشمار کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو پیش کی گئی سمری میں واجب الادا پنشن کے اعدادوشمار 14 ارب روپے بتائے گئے ہیں تاکہ بجلی کے بلوں میں ٹی وی لائسنس کی فیس 35 روپے سے 100 روپے کرائی جائے۔
یاد رہے کہ پی ٹی وی کے آڈیٹر نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ سالانہ پنشن کی مد میں 2 ارب روپے جاتے ہیں جبکہ سمری میں اسے 14 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آڈیٹر کی یاددہانی کے باوجود مالی سال 2019-2018 اور 2020-2019 میں ریٹائرڈ ملازمین کے لیے نہ ہی 2 ارب روپے سالانہ پنشن رکھی گئی اور نہ ہی کموٹیشن کی مد میں بھی ایک روپیہ نہیں رکھا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد وزیراعظم کو جعلی منافع کی رپورٹ پیش کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق اب پی ٹی وی کے چیئرمین، بورڈ اور مینیجنگ ڈائرکٹر جعلی خسارے کے غلط اعداد وشمار پیش کر کے وزیراعظم سے ٹی وی فیس میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں اس اضافے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے عوام کو اس بھاری بوجھ سے نجات دلانے کے لیے تیار بیٹھی ہیں جس کے باعث مستقبل میں حکومت کو ایک اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔