کورونا وبا سے پیدا ہونے والی غیریقینی صورتحال کے پیش نظر دنیا میں سونے کی شکل میں سرمایہ کاری محفوظ کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازعات کے باعث بھی سونے کی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق اگست 2020 تک دنیا بھر میں سونے کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں امریکہ سرفہرست ہے جس کے پاس 8 ہزار 133 ٹن سونا موجود ہے، دوسرے نمبر پر جرمنی موجود ہے جس کے سونے کے ذخائر 3 ہزار 363.6 ٹن ہیں جبکہ تیسرے درجے پر اقوام متحدہ موجود ہے جو 2814 ٹن سونے کی مالک ہے۔
دیگر ممالک میں اٹلی کے پاس 2451.8 ٹن، فرانس 2436 ٹن، روس 2299.99 ٹن، چین 1948.3 ٹن، سویٹزر لینڈ 1040 ٹن اور جاپان کے پاس 765.2 ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں۔
ان کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے جو 657.7 ٹن ذخائر کا مالک ہے، ہالینڈ کے پاس 612.5 ٹن، ترکی 583 ٹن، ای سی بی 504.8 ٹن، تائیوان 422.7 ٹن، پرتگال 382.5 ٹن، قزاقستان 378.5 ٹن، ازبکستان 342.8 ٹن، سعودی عرب 323.1 ٹن، برطانیہ 310.3 ٹن اور لبنان 286.8 ٹن سونے کا ذخیرہ رکھتا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اس فہرست میں 44 ویں نمبر پر موجود ہے اور اس کے سونے کے ذخائر 64.6 ٹن ہیں۔