سپریم کورٹ نے پنجاب کے مختلف شہروں میں سرکاری زمین پر پیٹرول پمپس کے قیام کے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہیں۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، کمشنر فیصل آباد اور ممبر بورڈ اف ریونیو پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عوامی اور سرکاری زمینوں پر پیٹرول پمپس کیسے تعمیر ہو گئے، ہم نے پیٹرول پمپس ختم کرانے کا حکم دیا تھا۔
کمشنر فیصل آباد نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے حکم پر فیصل آباد والا پیٹرول پمپ خالی کرا دیا ہے، عدالتی حکم پر مکمل عملدرامد کیا جائے گا۔
جسٹس قاضی امین کہا کہ آپ ایک پبلک سرونٹ ہیں، آپ کے پاس اختیارات ہیں، قانون اور اختیارات کا استعمال کریں، آپ کا کام ججز اور پارلیمینٹرینز نہیں کرسکتے، تھوڑی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کریں۔
عدالت نے احکامات دیے کہ کمشنر فیصل آباد اپنےعلاقے کا سروے کریں اور رپورٹ دیں۔
میمبر ریونیو عدالت کو بتایا کہ خانیوال والا پیٹرول پمپ سیل کردیا یے، چند دنوں میں جگہ خالی کرا دیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے اپنے علاقوں کا سروے کر کے چپے چپے کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ ہم پورے پنجاب میں گرین بیلٹ پر قائم پیٹرول پمپس سے متعلق ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرائیں گے۔
بعدازاں عدالت نے کمشنر اور ممبر ریونیو سے تین ہفتے میں مکمل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔