ٹی وی کی معروف اداکارہ اور میزبان عفت عمر نے کہا ہے کہ ایسا صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے کہ مبینہ طور پر ہراسانی میں ملوث شخص کو حکومت کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا جائے۔
اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کسی جانب اشارہ نہیں کیا تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اسے گلوکار اور اداکار علی ظفر کی جانب اشارہ قرار دیا جن کا نام گزشتہ ہفتے یوم آزادی کے موقع پر صدر پاکستان کی جانب سے ملک کے لیے خدمات انجام دینے والی 184 شخصیات میں شامل تھا۔
عفت عمر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 21ویں صدی میں ایسا کہیں نہیں ہوتا، ٹویٹ کے آخر میں انہوں نے پاکستان زندہ باد کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا جسے صارفین نے طنز قرار دیا۔
یاد رہے کہ 19 اپریل 2018 میں گلوکارہ میشا شفیع نے ایک ٹویٹ میں ساتھی گلوکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا جس کے جواب میں علی ظفر نے عدالت سے رجوع کیا اور دونوں کے درمیان ایک طویل قانونی جنگ ہوئی۔
میشا شفیع نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ میں نے آج بولنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ میرا ضمیر مزید خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے میں معاشرے میں خاموشی کا کلچر توڑ دوں گی۔
عفت عمر کئی برس تک پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے بعد آجکل مکمل طور پر میزبانی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
Police officer, who ordered killing of innocents family of sahiwal also got awRd for his bravery act