ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ برس 3 ارب 80 کروڑ افراد نے فیس بک پر صحت کے متعلق غلط معلومات دیکھیں، ان میں کورونا وبا کے دوران مزید اضافہ ہوا ہے۔
آواز نامی گروپ کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں فیس بک کو عوام کی صحت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ فیس بک نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہوں نے ایسی معلومات کے خلاف جو اقدامات کیے ہیں انہیں اس تحقیق میں مدنظر نہیں رکھا گیا۔
آواز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے صحت کے متعلق غلط معلومات میں سے صرف 16 فیصد پر وارننگ کے لیبل دیکھے ہیں۔
ریسرچ کے مطابق غلط معلومات پھیلانے والی 10 بڑی ویب سائیٹس کے فیس بک پیجز پر ویوز عالمی ادارہ صحت جیسی سرکاری ویب سائیٹ کی نسبت 4 گنا زیادہ تھے۔
غلط اطلاعات پھیلانے والے 42 پیجز کو 2 کروڑ 80 لاکھ فیس بک صارفین فالو کر رہے ہیں۔ 84 لاکھ افراد نے ایک مضمون پڑھا جس میں کہا گیا تھا کہ بل گیٹس کے ادارے کی فراہم کردہ پولیو ویکسین بھارت کے 5 لاکھ بچے مفلوج ہو گئے ہیں۔
اسی طرح 45 لاکھ افراد نے ایک ایسا آرٹیکل پڑھا جس میں قرنطینہ کو عوامی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا تھا۔
فیس بک انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم غلط معلومات کے پھیلاؤ کے متعلق آواز گروپ کے مقاصد سے ہم آہنگی رکھتے ہیں، حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والا ہمارے عالمی نیٹ ورک نے اپریل سے جون تک 9 کروڑ 80 لاکھ کورونا سے متعلقہ غلط معلومات پر وارننگ دی ہے جبکہ 70 لاکھ مواد کو ہٹا دیا ہے۔