اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دھمکی آمیز تقریر کرنے والے ملزم آغا افتخارالدین کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے ملزم کی درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہر ایک کو شفاف ٹرائل کا حق دینا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
آغا افتخار الدین مرزا نے عدالت کی واضح توہین کی، جسٹس امین
انہوں نے آغا افتخار کے وکیل کو مخاطب ہو کر کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ آپ نے سنا، وہ خود کو مذہبی عالم بھی کہتے ہیں۔ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ان کے موکل نے ویڈیو خود اپ لوڈ نہیں کی تھی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ چونکہ یہ کیس زیرالتوا ہے اس لیے ہم کوئی آبزرویشن نہیں دینا چاہتے۔
بعد ازاں عدالت نے آغا افتخار کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ جون کے آخر میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا نوٹس لیا تھا جس میں عدلیہ کے ادارے اور معزز جج صاحبان کے متعلق تضحیک آمیز گفتگو کی گئی تھی۔
اس تقریر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے متعلق بھی دھمکی آمیز بات کی گئی تھی جس کو بنیاد بنا کر ان کی اہلیہ سرینا قاضی نے تھانہ سیکرٹریٹ میں ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست دائر کی تھی۔