پاکستان کے معروف سیاستدان اور نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر حاصل خان بزنجو انتقال کر گئے۔
حاصل بزنجو پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے اور کراچی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹوئٹر پر میر حاصل بزنجو کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کی مغفرت و پسماندگان کو صبر جمیل کی دعا کی۔
میر حاصل خان بزنجو فروری 1958 میں ضلع خضدار کی تحصیل نال میں پیدا ہوئے، ان کے والد میر غوث بخش بزنجو بلوچستان کے گورنر رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 1979 میں گورنمنٹ کالج کوئٹہ سے انٹر گیا اور بعد ازاں جامعہ کراچی سے فلسفے میں ماسٹرز کیا۔
انہوں نے 1970 میں اپنی سیاست کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا، 1985 میں تحریک بحالی جمہوریت کا حصہ بنے اور 1988 میں بلوچستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے۔
1990 میں اپنے بھائی کی چھوڑی ہوئی نشست پر انہوں نے کامیابی حاصل کی اور پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
2003 میں انہوں نے نئی سیاسی جماعت نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2005 سے 2008 تک اس کے سیکرٹری جنرل رہے۔
میر حاصل خان بزنجو 2009 میں پہلی بات سینیٹر منتخب ہوئے، 2015 میں انہیں دوبارہ سینیٹر منتخب کیا گیا اور وہ نوازشریف کابینہ کا حصہ بن گئے۔
ان کا شمار اینٹی اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاستدانوں میں ہوتا تھا اور وہ جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے تھے۔