لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد فرانس، اٹلی، اسپین اور جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں کورونا وبا کے لوٹنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ براعظم یورپ میں وائرس پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔
اٹلی میں مئی کے بعد پہلی بار 845 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، فرانس میں 4700 مریض جبکہ اسپین میں اس سے بھی زیادہ کورونا متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں، ماہرین کے مطابق اس اضافے کی وجوہات میں سفر، گرمیوں کی چھٹیاں اور سماجی تقریبات شامل ہیں۔
تاہم عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اضافی لاک ڈاؤن کی مزید ضرورت نہیں ہے جبکہ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں لاکھوں افراد انتہائی غربت میں چلے جائیں گے۔
ڈبلیو ایچ او کے یورپ میں سربراہ ہینس کلوگ کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر اختیار کیے گئے طریق کار کے تحت ہم وائرس کے دوبارہ نمودار ہونے کے معاملے کو کچلنے کے لیے اب بہتر انداز میں تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم وائرس کو قابو میں رکھنے، معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے اور تعلیمی ادارے کھولے رکھنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔
عالمی بینک صدر ڈیوڈ ملپاس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث 10 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں اور اگر یہ وبا جاری رہی تو تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
لاطینی امریکہ کی صورتحال
اے ایف پی کے مطابق لاطینی امریکہ اور غرب الہند کے جزائر میں 65 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار 969 تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو اس وبا کے ہاتھوں 7 لاکھ 88 ہزار 242 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
لاطینی امریکہ میں برازیل سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں 35 لاکھ سے زائد کورونا مریض رپورٹ ہو چکے ہیں اور اموات کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت کورونا وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں ایک لاکھ 74 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے نظام صحت اور معیشت دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
امریکہ میں ہر ہفتے 10 لاکھ سے زیادہ افراد بیروزگاری کے دعوے جمع کرا رہے ہیں۔