• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

سی پیک کی تکمیل سنکیانگ کی ترقی کا نیا دور ثابت ہو گی، عالمی تجزیہ کار

by sohail
اگست 21, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تکمیل سے سنکیانگ میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘ نے سنکیانگ میں روشن مستقبل کی امید پیدا کردی ہے کیونکہ وہ چین کو افغانستان ، ہندوستان ، قازقستان ، کرغزستان ، منگولیا ، پاکستان ، روس اور تاجکستان سمیت آٹھ ممالک سے جوڑتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاک چائنہ سینٹر فار فرینڈ شپ کے تعاون سے چین کی حکومت کی موثرپالیسی کی وجہ سے سنکیانگ میں معاشی ترقی کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد ہونیوالے ویبنار کے شرکاء نے کیا ، اس ویبنار میں امریکہ ، فرانس ، نیوزی لینڈ اور چین سے بھی ماہرین نے شرکت کی ۔

پاکستان کے سابق سفیر و کالم نگار جاوید حفیظ نے سنکیانگ میں معاشی نمو کو فروغ دینے کے لیے چینی پالیسی کی کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ ، صحراؤں اور پہاڑوں پر مشتمل وسیع و عریض خطہ ہے جوقدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنکیانگ آج چین کے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں توانائی کے شعبہ میں ترقی ہو رہی ہے۔ خطے میں بڑی صنعتیں قائم کی جارہی ہیں اورسی پیک اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔

سنکیانگ میں عدم استحکام کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کی طرف سے کیے جانیوالے پروپیگنڈے کے برخلاف انہوں نے کہا کہ چینی حکومت غربت کے خاتمے ، انتہا پسندی پر قابو پانے اور اس خطے کو ترقیاتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے میں کامیاب رہی ہے۔

جاوید حفیظ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سنکیانگ میں گذشتہ کئی سالوں کے دوران 2.35 ٹریلین یوآن کی سرمایہ کاری کی ہے۔ 2014 اور 2018 کے درمیان ، صوبائی آبادی کا تقریبا 10 فیصد غربت سے نکال لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال سنکیانگ کی دیہی جی ڈی پی میں 9.7 فیصد اضافہ ہوا ہے ،آج سنکیانگ میں کوئی بچہ اسکول سے باہر نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت خطے میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔

سابق سفیر کا کہنا تھا کہ سنکیانگ کے صحت کے اشارے نے خطے میں 72 سال کی متوقع عمر ظاہر کی ہے ،جو اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ ‘بیجنگ سنکیانگ کے لوگوں کی پرواہ کرتا ہے۔

انہوں نے سنکیانگ میں مربوط کیمپوں کی موجودگی کے بارے میں حوصلہ افزائی کرنے والے حلقوں کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس خطے میں ایسے کیمپ ہیں جو صرف پیشہ ورانہ تربیت اور زبان کے کورس فراہم کرتے ہیں‘۔

پاک چائنہ سینٹر فار فرینڈ شپ کے صدر سلطان محمود حالی نے کہا کہ چین کے دشمنوں کی جانب سے جعلی خبریں پھیلائی گئی ہیں جو سنکیانگ کی زمینی صورتحال کی نفی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے متحرک سرمایہ کاری کی پالیسی کے ذریعے چین کے مغربی صوبوں کے مابین عدم اعتماد کو کم کرنے کے لیے 1999 میں ’گوئنگ ویسٹ‘ پالیسی اپنائی جس کا مقصد صنعتی پیداوار کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دینا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1999کے بعد اس پالیسی کی متعدد مرتبہ تجدید کی گئی۔ سنکیانگ میں 2010 میں ایک ترقیاتی منصوبہ تیار کیا گیا تھا تاکہ کوئلہ ، سونا ، تیل اور یورینیم جیسے خام مال کے علاوہ زراعت اور سیاحت کے ساتھ ساتھ حقیقی معاشی قوت میں تبدیل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ چینی صدرشی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے آغاز کے ساتھ ہی اس پالیسی کو آگے بڑھایا جس سے سنکیانگ صوبے کو ترقی ملی ہے ۔

ماہر معاشیات پروفیسر انجینئر ضمیر احمد اعوان نے کہا کہ چینی حکومت نے ترقی کے انوکھے ماڈل کو اپناتے ہوئے 19 دیگر صوبوں سے سنکیانگ کی ترقی کے لئے کچھ رقم مختص کرنے کو کہا ۔بیجنگ ، شنگھائی ، گوانگڈونگ ، ژی جیانگ اور لیاؤننگ سمیت مختلف صوبوں نے سنکیانگ میں زراعت ، صنعت ، ٹیکنالوجی ، تعلیم اور صحت کے شعبہ کو ترقی دینے کے لئے بھرپور مدد دی۔

ویبنار میں فرانس کے ماہنامہ میگزین نویلے سولیڈیرٹی کی چیف ایڈیٹر کرسٹینا بیری ، نیوزی لینڈ چائنہ فرینڈ شپ سوسائٹی کے صدر ڈیو برومویچ ، ویکلی میگزین ایگزیکٹو انٹیلی جنس ریویو کے واشنگٹن کے بیوروچیف ولیم جونز اور چائنیز گوانگ منگ ڈیلی کے چیف جرنلسٹ پروفیسر ژاﺅ رانگ نے بھی شرکت کی ۔

اس موقع پر انہوں نے سنکیانگ میں انتہا پسندی کے پھیلاؤ کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اس حقیقت کی تائید کی کہ یہ خطہ معاشی ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

Tags: سنکیانگسی پیک
sohail

sohail

Next Post

ترکی کی تاریخ کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر دریافت

ان لیبارٹریز کی تحقیقات ہونی چاہئیں جنہوں نے نواز شریف کے ٹیسٹ کیے، فواد چوہدری

بھارت میں 70 ہزار کے قریب نئے کورونا کیسز، مجموعی تعداد 30 لاکھ

سعودی عرب نے چین کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی ریفائنری کا معاہدہ معطل کر دیا

بہاولپور سے جڑی کچھ یادیں کچھ باتیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In