وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ نواز شریف کا ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریز کون سی تھیں اور ٹیسٹ کرتے وقت کون کون اس میں ملوث تھا۔
میڈیا ٹریننگ ورک شاپ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق مسئلہ ان لیبارٹریز کا ہے جنہوں نے ان کے ٹیسٹ کیے۔ اب نواز شریف لندن میں پھر رہے ہیں، کافیاں پی رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب انکی رپورٹس ہائی کورٹ نے مانگیں تو وہ ان کی جانب سے پیش نہیں کی گئیں۔ میں پہلے بھی کہہ رہا تھا نواز شریف کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ کل وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو اس پر کام کرنے کے لیے کہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چاہے مریم نواز ہو یا نواز شریف، ان کا درد ایک ہی ہے کہ ان کے خلاف کیسز بند ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی وجہ سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں گیا ہے، فضل الرحمن، عطاالرحمان ان سب پہ نیب کے کیسز ہیں، جب کیسز میں تیزی آتی ہے تو یہ لوگ سیاسی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحافت کو نئی ٹیکنالوجی کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا، ہم رویت ہلال کے ممبرز کی طرح ٹیکنالوجی سے آنکھیں نہیں پھیر سکتے، پرنٹ میڈیا میں خبر کی اتنی اہمیت نہیں رہ گئی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ تمام اخباروں کی لیڈ اب سیاستدانوں کے بیانات پر مشتمل ہوتی ہے، پرنٹ میڈیا کو چاہیے کہ بیان کے پیچھے کی کہانی عوام کے سامنے لائیں۔
پارلیمنٹ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے اندر بحث کو بڑھانے کی ضرورت ہے، کسی بھی جمہوریت کے لیے پارلیمان کے لوگ اور جرنلسٹ بہت اہم ہیں، صوبائی اسمبلیوں کو اپنے یوٹیوب چینلز کا آغاز کرنا چاہیے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پوری دنیا میں کم عمری کی شادی پر پابندی عائد ہے لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ اس پر پابندی نہیں لگا سکی۔
انہوں نے کہا کہ تمام تر اختیارات صوبوں کے پاس ہیں، صوبوں کو اپنی کارکردگی عوام کے سامنے لانی چائیے
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور بلاول مل کر بھی جلسہ کریں تو ایک میرج ہال میں بھی بندے اکٹھے نہیں کرسکتے، ان کی تحریک بس پیسے حلال کرنے کا ذریعہ ہے۔