اسلام آباد: العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
اپیل کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ کرے گا، یکم ستمبر کو سماعت کا آغاز ہو گا۔
یاد رہے کہ اسی مقدمے میں نیب نے نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل کی تھی جبکہ نواز شریف نے سزا کے خلاف اپیل کی تھی۔
العزیزیہ ریفرنس کیا ہے؟
العزیزیہ اسٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی، شریف خاندان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت نے دیا تھا۔
نیب کا کہنا ہے کہ شریف خاندان اپنے دعوے کے حق میں کوئی بھی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کر سکا، پاکستان سے غیرقانونی طور پر منی لانڈرنگ کر کے اس مل کے لیے سرمایہ حاصل کیا گیا تھا۔
حسین نواز کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔
ان کے وکلا نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔
اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کا اصل مالک نواز شریف خود تھے۔
نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی ہے کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ ہیں، نہ کہ ان کے بیٹے۔
العزیزیہ ریفرنس پر فیصلہ
احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس پر اپنے فیصلے میں نواز شریف کو ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے مالک اور بینیفشری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کی منی ٹریل دینے میں ناکام رہے ہیں۔
عدالت نے انہیں 7 سال قید بامشقت سنائی تھی اور ڈیڑھ ارب جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہل میٹل کی آمدن سے بننے والے تمام اثاثے اور جائیداد وفاقی حکومت قرق کر لے۔
نوازشریف نے اس مقدمے میں اپنا دفاع پیش کرنے کے بجائے یہ کہا تھا کہ کاروبار ان کے بچوں کے نام پر ہے، ان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔
العزیزیہ میں استغاثہ کے 22 اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہان نے بیانات قلمبند کروائے تھے۔ سابق وزیراعظم نے فلیگ شپ میں 140 اور العزیزیہ میں 152 سوالوں کے جواب عدالت میں جمع کرائے تھے۔