پشاور میں کمرہ عدالت میں توہین رسالت کے ملزم کے قتل میں سہولت کاری کے الزام میں ایک جونئیر وکیل طفیل ضیاء کو تین روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
طفیل ضیاء پر الزام ہے کہ انہوں نے قتل کے ملزم فیصل خالد کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا، انہیں قتل کے ملزم کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
طفیل ضیاء کو پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے بتایا کہ ان کے موکل نے ملزم کو سہولت فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق طفیل ضیاء پر الزام ہے کہ انہوں نے توہین رسالت کے ملزم کو قتل کرنے والے نوجوان کو پستول پہنچایا تھا، پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
جونیئر وکیل کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا تاہم آج عدالت نے انہیں جیل بھجوا دیا ہے۔
مقتول طاہر احمد نسیم کے خلاف توہین رسالت کی درخواست 2018 میں مدرسے کے ایک طالب علم نے دی تھی۔
وکلا کے مطابق طفیل ضیاء سینئر وکلا کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور انہوں نے لائسنس کے لیے درخواست دی ہوئی ہے، وہ توہین رسالت کے مقدمے میں مدرسے کے طالب علم کے جونئیر وکیل کے طور پر پیش ہوتے رہے ہیں۔