ڈاکٹروں کی جانب سے مردہ قرار دی جانے والی 81 سالہ خاتون تمام رات مردہ خانے میں گزار کر صبح زندہ ہو گئیں جس سے عملے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق 81 سالہ پنشنر خاتون زینائدہ کونونووا کو پیٹ میں شدید درد کے بعد اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا آپریشن کر کے آنتوں میں موجود رکاوٹ دور کر دی۔
تاہم آپریشن سے معمر خاتون جانبر نہ ہو سکیں اور ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے کر مردہ خانے بھجوا دیا جہاں ان کی میت تمام رات رکھی رہی۔
انہیں مردہ خانے میں رات کے ایک بجے پہنچایا گیا تاہم 7 گھنٹوں بعد صبح 8 بجے جب ایک خاتون ورکر وہاں پہنچیں تو انہوں نے زینائدہ کو فرش پر پڑے دیکھا۔
وہ مردہ خانے کی میز سے اترنے کی کوشش کرتے ہوئے فرش پر گر پڑی تھیں، ورکر نے شور مچایا تو مردہ خاتون نے ان سے مدد طلب کی جس کے بعد وہاں ہنگامہ برپا ہو گیا اور لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
بعد ازاں زینائدہ کونونووا کو کمبلوں میں لپیٹ کر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی دیکھ بھال کی، اس دوران ان کی بھتیجی تاتینیا بھی وہاں پہنچ گئیں۔
ڈاکٹروں نے تاتینیا کو بتایا کہ ایسے لگتا ہے جیسے ان کی خالہ دوسری دنیا سے واپس آئی ہوں کیونکہ انہیں ڈاکٹروں نے 15 منٹ انتظار کرنے کے بعد مردہ قرار دیا تھا۔
بعد ازاں ڈاکٹر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے قواعد کے برخلاف انہیں موت کے ایک گھنٹہ 20 منٹ بعد مردہ خانے بھیجوا دیا تھا جبکہ انہیں 2 گھنٹے انتظار کرنا چاہیے تھا۔