بھارت کی اہم سیاسی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جان نشین کے انتخاب کا عمل شروع کیا جائے۔
اس اعلان پر کانگریس کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور پارٹی کی سینئر قیادت نے دلی میں ملاقاتیں شروع کر دی ہیں جن میں سونیا گاندھی کے پارٹی سربراہ رہنے یا ان کے جان نشین چننے کے معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔
بی جے پی کے سیاسی طور پر ابھرنے کے بعد کانگریس کی عوامی حمایت میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے سونیا گاندھی کو پارٹی کے اندر سے بھی شدید تنقید کا سامنا تھا۔
یاد رہے کہ ان کے ناقدین کی جانب سے ایک خط سامنے آیا تھا جس میں کانگریس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
2014 کے انتخابات میں کانگریس کو بری طرح شکست ہوئی تھی اور یہ جماعت 543 کے ایوان میں صرف 44 نشستیں حاصل کر پائی تھی، وہ ایسی ریاستوں میں بھی ہار گئی تھی جو روایتی طور پر اس کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔
2019 کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو گزشتہ الیکشن سے بھی زیادہ کامیابی حاصل ہوئی جبکہ کانگریس صرف 52 نشستیں جیت سکی۔ اس وقت کانگریس کی 6 ریاستوں میں حکومت قائم ہے جن میں سے 4 میں وہ مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔
سینئر رہنماؤں کے خط میں کیا لکھا ہے؟
کانگریس کے 23 سینئر رہنماؤں کا حالیہ خط بھی سونیا گاندھی کے استعفی کے فیصلے کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ خط گزشتہ ہفتے لکھا گیا تھا جو اتوار کو میڈیا تک پہنچا اور پھر یہ ہر طرف پھیل گیا۔ اس پر غلام نبی آزاد، منیش تیواری اور ششی تھرور جیسے اہم رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں۔
اس میں رہنماؤں نے خودمختار انتخابی اتھارٹی کے قیام سمیت دیگر کئی مطالبات کیے ہیں، جماعت کی نئے سرے سے تنظیم کے لیے رہنما اصول مرتب کرنا بھی ان مطالبات میں شامل ہے۔
یاد رہے کہ سونیا گاندھی نے پارٹی صدارت کا عہدہ 2019 میں عارضی طور پر اس وقت سنبھالا تھا جب ان کے بیٹے راہول کو انتخابات میں شکست ہوئی تھی اور وہ پارٹی قیادت سے مستعفی ہو گئے تھے۔