بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست گزار حافظ عرفات کا موقف ہے کہ انہوں نے بحریہ سپورٹس کمپلیکس سٹی کراچی میں 95 لاکھ 5 ہزار مالیت کے دو پلاٹ خریدے جن کی کل اقساط ادا کر دی ہیں مگر انہیں قبضہ دینے کے بجائے یہ کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ پلاٹس بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے میں نہیں آتے۔
حافظ عرفات، جو سپریم کورٹ کے وکیل بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ کمپنی کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ جن افراد کے پلاٹس منصوبہ سے باہر چلے گئے ہیں انہیں منصوبہ میں شامل زمین میں سے پلاٹس دیے جائیں گے یا انہیں ادائیگیاں کی جائیں گی لیکن اب کمپنی یقین دہانی پر عمل نہیں کر رہی اور توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے۔
متاثرہ وکیل نے اپنی درخواست میں ملک ریاض، انکے بیٹے احمد علی ریاض، اہلیہ بینا ریاض اور زین ملک کو فریق بنایا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے انہوں نے کمپنی کو متعدد خطوط لکھے اور سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ادائیگیوں کا کہا لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اپنی درخواست میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ ملک ریاض حسین سمیت تمام فریقین کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مارچ 2019 میں بحریہ ٹاون لمیٹڈ کراچی کے16,896 ایکڑ رقبہ کے حوالے سے ایک فیصلہ میں حکم دیا تھا کہ جن افراد کے پلاٹس بحریہ ٹاون کے رقبہ سے باہر ہیں انہیں بحریہ ٹاون کی زمین میں سے پلاٹس کا قبضہ دیا جائے گا یا انہیں معاوضہ دیا جائیگا۔ سپریم کورٹ نے یہ احکامات بحریہ ٹاون کی تحریری یقین دہانی جمع کرانے پر جاری کیا تھا۔
بحریہ سپورٹس کمپلیکس سٹی، بحریہ ٹاون لمیٹڈ کراچی کا ایک پراجیکٹ ہے جسکا اعلان فروری 2016 میں ہوا تھا۔ شرائط کے مطابق خریداروں کو پلاٹ کی رقم 16 اقساط میں 4 سال کے دورانیہ میں دینی تھیں۔