چین کے ایک سرکاری عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ صحت کے شعبے کے اہم ترین کارکنوں کو جولائی سے کورونا کی ویکسین استعمال کرائی جا رہی ہے۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر کے سربراہ ژینگ ژونگوئی نے ریاستی میڈیا ایجنسی سی سی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کورونا ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت دے دی ہے، ہیلتھ ورکرز اور سرحد پر موجود حکام کے لیے اس کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک ممیں ایک ہفتے کے دوران مقامی طور پر پھیلنے والا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، اس لیے سرحد پر موجود عملے کو کورونا میں مبتلا ہونے اور اسے ملک میں پھیلانے کے خدشے کے پیش نظر ویکسین استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
چین میں پہلی بار ٹرائل کے علاوہ عام استعمال کے لیے ویکسین کی اجازت دی گئی ہے تاہم یہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں کہ کس کمپنی کی ویکسین استعمال کی جا رہی ہے۔
ژینگ کا کہنا ہے کہ یہ استعمال قانون کے مطابق اور ان اختیارات کے تحت ہو رہا ہے جن میں عوام کی صحت کو لاحق کسی سنجیدہ خطرے کی صورت میں غیرمنظور شدہ ویکسین بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویکسین کے استعمال کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے معاملات پر بھی پوری منصوبہ بندی سے عمل ہو رہا ہے جن میں سائیڈ ایفیکٹس کا جائزہ، خرابی کی صورت میں علاج کی سہولت اور معاوضہ شامل ہیں۔
چین کے وزیراعظم لی چیانگ کا کہنا ہے کہ جب ان کا ملک ویکسین کی بین الاقوامی برآمد شروع کرے گا تو اس کی پہلی ترجیح میکانگ کا خطہ ہو گا جس میں میانمار، لاؤس، ویتنام، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا شامل ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین اسے چین کی ویکسین ڈپلومیسی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت وہ ان ممالک میں اپنا اثرونفوذ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جو پہلے ہی اس کے دائرہ اثر میں ہیں جبکہ برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے علاقوں کو ویکسین کی فراہمی بعد میں ہو گی۔