جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کے درمیان ملاقات میں حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق ہوا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں شہبازشریف کے ہمراہ خواجہ آصف، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق بھی موجود تھے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ ہم نے ایک دوسرے کی بات سنی اور طے کیا کہ پارلیمان کے اندر اور باہر دیگر سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس ضرور ہو گی جس میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں اکٹھی ہوں گی، اے پی سے کے متعلق رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت کی جائے گی۔
ن لیگ کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے عمران خان کو نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے مین آف دی ایئر قرار دیا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہمارے دور میں چینی اور گندم کے اسکینڈل ہوئے؟
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں ہزاروں میگاواٹ بجلی کے پلانٹ لگائے گئے، ہم نے لوڈشیڈنگ ختم کی لیکن موجودہ حکومت نے اسے دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر ہمارے درمیان اتفاق ہے تاہم طریق کار پر گفتگو کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی تقسیم ملکی مفاد میں نہیں ہے، موجودہ صورتحال میں باہمی تحفظات کو دور کرنا ضروری ہے، شہبازشریف سے رابطوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کا ایک اجلاس بلایا تھا مگر میر حاصل خان بزنجو کے انتقال کے باعث اسے موخر کرنا پڑا، دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ان سے بات کریں گے۔