جنوبی کوریا میں کورونا وبا کی نئی لہر سامنے آنے کے بعد دارالحکومت سیول میں تمام اسکول بند کر دیے گئے ہیں، یہ اسکول 2 ہفتے قبل کھولے گئے تھے۔
وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر تک تمام اسکول آن لائن تعلیم دیں گے، صحت کے حکام نے ایک مرتبہ پھر پورے ملک میں وبا پھیلنے کی وارننگ دے دی ہے۔
ڈھائی کروڑ آبادی پر مشتمل سیول میں صرف وہ طلبہ اسکول جائیں گے جنہوں نے دسمبر میں یونیورسٹی میں داخلے کے لیے امتحان دینا ہے۔
جنوبی کوریا ان ممالک میں شامل ہے جہاں لاک ڈاؤن کے بغیر صرف آئسولیشن اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے بغیر کورونا وبا کا پھیلاؤ روک دیا گیا تھا اور اسے دنیا کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران سیول میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد صورتحال پھر سے پریشان کن ہو گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی کوریا میں کورونا کے 280 نئے مریض سامنے آئے ہیں، پچھلے 12 دنوں سے ایک سو سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، اس سے قبل یہ تعداد اوسطاً 30 تک محدود تھی۔
ان میں سے بہت سے مریضوں کا تعلق ایک ہفتہ قبل سیول کے مختلف پروٹیسٹنٹ چرچ میں ہونے والی تقریبات کے شرکاء سے ہے جن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیول میں حکام نے عوامی مقامات کے اندر اور باہر ماسک پہننے کی پابندی عائد کر دی ہے، اس قسم کی پابندی پہلی بار عائد کی گئی ہے، چرچ، نائٹ کلب اور شراب خانے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے تنبیہ کی ہے کہ اگر کورونا کیسز کی تعداد بڑھتی رہی تو سخت سماجی فاصلے کے قواعد نافذ کر دیے جائیں گے جس سے پہلی بار ملک میں مختلف قسم کے کاروبار بند کرنے پڑیں گے۔ اس سے قبل جنوبی کوریا نے کسی لاک ڈاؤن کے بغیر وبا پر کامیابی سے قابو پا لیا تھا۔