ایف آئی اے اور سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی مشترکہ ٹیم معروف صنعتکار جہانگیر خان ترین کے خلاف منی لانڈرنگ اور کارپوریٹ فراڈ کے الزامات کی تحقیقات میں مصروف ہے۔
ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈبلیو ڈی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں ملک بھر سے جے ڈبلیو ڈی کی تفصیلات مانگ لی گئیں۔
ایف آئی اے کی طرف سے ڈپٹی کمشنرز کو خط۔ لکھ کر جہانگیر ترین کے خاندان سمیت 22 افراد اور کمپنیوں کا ڈیٹا مانگ لیا گیا ہے۔ ان افراد میں ان کے اہلخانہ اور اہم ملازمین شامل ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق جہانگیرترین، علی خان ترین، مسز آمنہ ترین، مریم ترین سیٹھی، مہر ترین، سحر خان ترین سمیت دیگر افراد اور کمپنیوں کا ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے۔
ان کے بینک اکاؤنٹس، شیئرز، جائیدادوں، کمپنیوں اور ان کا تمام ریکارڈ، آمدنی اور ویلتھ ٹیکس کے ریٹرنز، آؤٹ ورڈ ریمیٹنس، فکسڈ ڈپازٹ، کریڈٹ کارڈز، رننگ فنانس، لاکرز کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔
اسی طرح چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈی جی ایل ڈی اے، بحریہ ٹاؤن لاہور اور کراچی کی انتظامیہ سمیت کئی شہروں کے ڈپٹی کمشنرز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان 22 افراد اور کمپنیوں کے نام پر موجود ملکیت کی تفصیلات فراہم کریں۔
ٹیکس سے متعلقہ حکام سے ان کے ریٹرنز اور ویلتھ ٹیکس کے گوشواروں کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک ان افراد سے متعلقہ ترسیل زر کی تفصیلات مانگی گئی ہیں جو انہوں نے پاکستان میں قائم کسی کمرشل بینک یا مرکزی بینک میں رجسٹرڈ کسی ایکسچینج کمپنی کے ذریعے کر رکھی ہو۔
اسی طرح مختلف بینکوں کے 29 سربراہان کو بھی جاری نوٹس میں ان افراد کے ہر قسم کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لی گئی ہیں۔ ان میں بینکوں کے لاکرز کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
اسی طرح جے ڈی ڈبلیو کے چیف فائنانشل افسر محمد رفیق کو نوٹس کے ذریعے طلب کیا گیا ہے، ان سے کمپنی کے تمام اکاؤنٹس، لیجرز اور واؤچرز کی اصل کتب مانگی گئی ہیں۔