سپریم کورٹ نے دوسری شادی کے خواہش مند افراد کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزار محمد جمیل کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دیا۔
محمد جمیل پشاور کے رہائشی ہیں اور انہوں نے اہلیہ کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی تھی۔
کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی جس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی شامل تھے۔
5 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اکبر نے تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر فوری ادا کرنا ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مہر معجل ہو یا غیر معجل دونوں صورتوں میں فوری واجب الادا ہوگا، اس کے علاوہ دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت لازمی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دوسری شادی کیلئے اجازت کا قانون معاشرے کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے ہے، دوسری شادی کیلئے اجازت کے قانون کی خلاف ورزی سے کئی مسائل جنم لیں گے۔
عدالت نے حق مہر کی فوری ادائیگی کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کر دی۔