سوشل میڈیا پر مسلسل ایسی خبریں، تصاویر اور ویڈیوز شیئر ہو رہی ہیں جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ کراچی کے علاقے منگھو پیر میں موجود مگرمچھ سیلابی پانی کے ذریعے شہری آبادی میں پہنچ گئے ہیں۔
اس حوالے سے سندھ وائلڈ لائف کے ڈائرکٹر ممتاز سومرو نے کہا ہے کہ بارش کے پانی کے ذریعے مگر مچھوں کے منگھو پیر اور سرجانی ٹاؤن میں پھیل جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ محکمے کو سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں اور شہریوں کی شکایات ملنے کے بعد انسپکٹر نعیم کی سربراہی میں محکمہ جنگلی حیات کی ٹیم اس علاقے پہنچ چکی ہے، ٹیم معائنہ مکمل کرنے کے بعد شہریوں کو تسلی دے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر فائیو جے میں ایک گراؤنڈ میں مگرمچھوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم وہاں پہنچی تو اطلاع دینے والے لڑکے نے کہا کہ اس کے موبائل میں تصویر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تصویر دیکھنے کے بعد اندازہ ہو گیا کہ اس میں نظر آنے والا علاقہ کوئی اور ہے، پانی کا رنگ بھی مختلف تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس رنگ اور نسل کا مگر مچھ پاکستان میں کہیں نہیں پایا جاتا۔
انسپکٹر نعیم کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کئی گھنٹے مگر مچھ کی تلاش میں آپریشن کرتی رہی ہے تاکہ علاقے کے مکینوں کو تسلی ہو جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف رہنماء عامر لیاقت نے بھی مگرمچھ کی ویڈیو ٹویٹ کی تھی اور شہریوں کو محتاط رہنے کا کہا تھا۔
منگھو پیر کا علاقہ مشہور صوفی بزرگ کے نام سے موسوم ہے اور یہاں ان کا مزار بھی واقع ہے۔ اس سے ملحقہ ایک تالاب بھی ہے، جہاں درجنوں کی تعداد میں مگرمچھ موجود ہیں، جن کو بابا کے مگرمچھ کہا جاتا ہے۔