ویلنگٹن: عدالت نے نیوزی لینڈ کی مساجد میں فائرنگ کر کے 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا دی ہے۔ ایسی سخت سزا نیوزی لینڈ میں کسی بھی ملزم کو پہلی بار دی گئی ہے۔
کرائسٹ چرچ ہائیکورٹ کے جج کیمرون مینڈر نے اس موقع پر کہا کہ ٹرینٹ نے کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا، وہ جتنا عرصہ بھی جیل میں رہے، اس کے جرائم کا کفارہ ادا نہیں ہوسکتا۔
سزا سناتے وقت انہوں نے مجرم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے جرائم اسقدر گھناؤنے ہیں کہ اگر تمہیں موت تک بھی قید میں رکھا جائے پھر بھی تمہاری سزا اور مذمت کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔
جج کیمرون مینڈر نے کہا کہ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں تمہارے اندر ان لوگوں کے متعلق کوئی ہمدردی نہیں ہے جنہیں تم نے قتل کیا ہے۔
النور مسجد کے امام جمال فودا نے سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند تمام ایک جیسے ہوتے ہیں چاہے وہ مذہب کو استعمال کریں یا قومیت سمیت کسی اور نظریے کو۔ یہ لوگ نفرت کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ہم یہاں محبت، ہمدردی کا احترام کرتے ہیں۔