وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم کئے جانے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ تکنیکی نکات پر کالعدم قرار دی ہے، اس فیصلے سے شوگر مافیا کو فائدہ پہنچا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی حکومت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ شوگر مافیا عوام کو انتہائی مہنگے داموں چینی فروخت کر کے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے، اس لیے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر شوگر کمیشن رپورٹ بحال کی جائے تاکہ اس کی روشنی میں تحقیقات ہو سکیں۔
پیل میں شوگر ملز مالکان، ڈی جی ایف بی آر، اور وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ نے فیصلے میں آبزرویشن دی تھی کہ شوگرکمیشن نے رولز آف بزنس کی پیروی نہیں کی، کمیشن کا قیام بھی نامکمل تھا اور اس نے درخواست گزاروں کو سماعت کا موقع نہیں دیا۔
عدالت نے مزید کہا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ تعصب پر مبنی تھی، اس میں آئین کے آرٹیکل 4، 10 اے اور 25 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کے تمام اداروں کو کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی قسم کا فیصلہ لینے سے بھی روک دیا تھا، نیب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ نیب آرڈیننس کے تحت کمیشن رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر آزادانہ تحقیقات کرے۔