بالی وڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر نارکوٹکس کنٹرول بیورو تحقیقات شروع کر دے تو کئی معروف نام سلاخوں کے پیچھے پہنچ جائیں گے۔
انہوں نے ٹویٹر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر بلڈ ٹیسٹ کیے جائیں تو خوفناک انکشافات ہوں گے، امید ہے کہ وزیراعظم سواچ بھارت مشن کے تحت اس گٹر کی بھی صفائی کرائیں گے جسے بالی وڈ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو انہیں ان کے اتالیق انہیں نشہ پلا دیا کرتے تھے تاکہ وہ پولیس کے پاس نہ جا سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب میں کامیاب ہو گئی اور فلموں کی مشہور پارٹیوں میں جانے لگی تو مجھے ڈرگز، شہوت پرستی اور مافیا کی خوفناک دنیا دیکھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ میں نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن مجھے مرکزی حکومت کی جانب سے تحفظ درکار ہے، میں نے نہ صرف اپنا کیرئیر بلکہ اپنی زندگی کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سشانت سنگھ بھی کئی ناپاک رازوں سے آگاہ تھے، اس وجہ سے انہیں قتل کر دیا گیا۔
انہوں نے انکشافات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فلم انڈسٹری میں سب سے مقبول نشہ کوکین کا ہے جو گھروں میں منعقد ہونے والی تقریباً تمام پارٹیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ بہت مہنگا نشہ ہے لیکن جب آپ معروف لوگوں کے گھر پارٹیوں میں جاتے ہیں تو یہ مفت فراہم کیا جاتا ہے، ایم ڈی ایم اے کے ٹکڑے پانی میں ملا دیے جاتے ہیں اور کئی بار آپ تک بغیر بتائے یہ پانی پہنچا دیا جاتا ہے۔
کنگنا رناوت نے یہ انکشافات اس روز کیے ہیں جب انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے سشانت سنگھ کی موت کے حوالے سے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے ٹیلنٹ مینیجر جیا ساہا کو طلب کیا ہے۔
ساہا ایک ٹیلنٹ کمپنی میں کنسلسٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں، وہ سشانت سنگھ کی گرل فرینڈ ریا چکرورتی کی ٹیلنٹ مینیجر بھی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ساہا کی چکرورتی کے ساتھ گفتگو لیک ہونے کے بعد انہیں نشہ آور ادویات کے استعمال کے زاویے سے سوالات کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں چکرورتی اور ساہا کے درمیان واٹس ایپ پر ‘ہارڈ ڈرگ’ اور ‘ایم ڈی ایم اے’ کے حوالے سے گفتگو لیک ہوئی تھی۔