فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اربوں روپے جی آئی ڈی سی کی وصولی سے ملک کی میعشت ڈوب جائے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے اس معاملے پر فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھا کہ کمپنیوں پر واجب الادا سیس کی مد میں 4 سو ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کرے۔ انڈسٹریل سیکٹر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کرنے پر غور کر رہا ہے۔
ایف پی سی سی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے پہلے ہی صنعتی شعبہ انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ سیس وصول کرنے سے ملک میں بہت بڑا معاشی بحران سر اٹھائے گا اور معیشت بیٹھ جائے گی۔
فیڈریشن کے صدرمیاں انجم نثار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فرٹیلائزرز، سیمنٹ، ٹیکسٹائل، سی این جی، کیمیکلز اور اسٹیل وغیر جیسے شعبے جی آئی ڈی سی کے فیصلے پر عملدرآمد سے متاثر ہوں گے کیونکہ تمام صنعتوں میں گیس کا استعمال ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ فیصلے پرعملدرآمد کی صورت میں 417 ارب روپے 24 اقساط میں ادا کرنا کورونا وبا کی صورتحال میں ممکن نہیں کیونکہ انڈسٹری رقم کی شدید کمی کا شکار ہوکر دیوالیہ ہو جائے گی۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیس کی رقم سے ڈویلپنگ پراجیکٹس کی کوئی ٹائم لائن دی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی مکینیزم دیا ہے۔
فیڈریشن سے جاری بیان کے مطابق اب تک جی آئی ڈی سی کی مد میں جمع ہونے والی رقم کی مالیت 700 ارب روپے ہے جس میں سے تقریبا 295 ارب روپے اکٹھے ہو چکے ہیں جبکہ 405 روپے بقایا ہیں۔