وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف کو واپس لانے کے کابینہ کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ان کے خیال میں وہ واپس نہیں آئیں گے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یکم ستمبر سے نواز شریف کے اہم کیسز شروع ہو رہے ہیں، وہ لندن میں رہ کر ہی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
نوازشریف کو مجرموں کی حوالگی کے تحت وطن واپس لانے کا فیصلہ
نیب میں بلانے کا مقصد مجھے نقصان پہنچانا تھا، مریم نواز
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کوشش ہے کہ نوازشریف کی واپسی کو ممکن بنایا جائے مگر برطانیہ کے ساتھ پاکستان کا قیدیوں کی واپسی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف حکومت کے ساتھ میٹنگ میں ایک ہی مطالبہ کرتی ہے کہ نیب کو ختم کرو، وہ تو اس کے لیے ہاتھوں اور پیروں کے انگوٹھے لگانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہبازشریف اور حمزہ شریف کے کیسز بہت سنگین ہے اور دونوں ہی جیل جا سکتے ہیں۔
شیخ رشید نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں اس حوالے سے 2 بل منظور کرانے میں حکومت کو شکست نہیں ہوئی بلکہ حزب اختلاف بے نقاب ہوئی ہے، معلوم ہوا ہے کہ یہ اقتدار کا بھوکہ ٹولہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کی حالت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی ان پر بھروسہ نہیں کرتے اور تحریری یقین دہانی چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان مدرسے کے طلبہ لے کر آ گئے تو یہ دین کی خدمت نہیں ہو گی، اپوزیشن ابھی ایک پلیٹ فارم پر نہیں ہے، اے پی سی ابھی بہت دور ہے، ویسے بھی لوگ ان کے لیے باہر نہیں نکلیں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ تلخیاں ختم ہو چکی ہیں، دونوں ممالک ساتھ کھڑے ہیں۔