اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے فیصلے میں کہا کہ اے آر یو کا معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا جا چکا ہے اور اس کا فیصلہ آنا ہے اس لیے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
شہزاد اکبر کی بطور مشیر تقرری کے متعلق عدالت نے لکھا کہ وزیراعظم کے مشیر کی تقرری کے لیے اہلیت کا کوئی معیار نہیں ہے، یہ ان کا صوابدیدی اختیار ہے۔
عدالت نے مزید لکھا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے ایسا کوئی ریکارڈ نہیں پیش کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ شہزاد اکبر نیب کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔
درخواست گزار ایڈووکیٹ پرویز ظہور نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ شہزاد اکبر وفاقی کابینہ یا پارلیمنٹ کے اجلاس میں بیٹھنے کے لیے اہل نہیں ہیں۔ عدالت نے اس پر اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ مشیر کو بولنے کا اختیار ہے اور وہ ایوان کے اجلاس میں بھی جا سکتے ہیں لیکن وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکتے۔
عدالت نے مزید کہا ہے کہ مشیر اس وقت کابینہ کے اجلاس میں شرکت کر سکتا ہے جب وزیراعظم کو ان کی ضرورت ہو اور انہیں شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی ہو۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ وزیر کی حیثیت کے ساتھ مشیر کا تقرر انہیں 1973 کے رولز کے تحت وزیر کی حیثیت سے کام کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔