سوشل میڈیا ویب سائیٹس پر ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں ایک شخص کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ اس وائرس کا شکار ہو گیا لیکن سائنسدان ان واقعات کے متعلق شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
لیکن اب ہانگ کانگ کے ریسرچرز نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ایک انسان کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ اس کا شکار ہوسکتا ہے۔
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارچ میں کھانسی، بخار اور سر درد شروع ہوا، اس کا کورونا ٹیسٹ لیا گیا تو وہ مثبت آیا جس کے بعد اسے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔
علاج مکمل ہونے کے بعد اس کا دو بار کورونا ٹیسٹ لیا گیا اور دونوں دفعہ یہ منفی آیا جس کے بعد اسے صحتیاب قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔
15 اگست کو وہی شخص اسپین اور برطانیہ کے حالیہ سفر کے بعد واپس لوٹا تو ایئر پورٹ پر اس کی اسکریننگ کی گئی اور کورونا ٹیسٹ لیا گیا جو مثبت نکلا لیکن اس مرتبہ اس میں بیماری کی کوئی علامات موجود نہیں تھیں۔
اس شخص کو ایک مرتبہ پھر اسپتال داخل کر لیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی نگرانی شروع کر دی، اس دوران اس کے جسم میں موجود کورونا وائرس کی مقدار مسلسل کم ہوتی گئی جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس کی قوت مدافعت کامیابی سے وائرس کو ختم کر رہی ہے۔
دو مختلف قسم کے کورونا وائرس
اس دوران ایک اہم بات سامنے آئی کہ پہلی بار بیمار ہوتے وقت اس کے جسم میں کورونا وائرس کی جو قسم موجود تھی، دوسری مرتبہ وبا کا شکار ہونے کے بعد اس سے مختلف قسم پائی گئی جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وائرس جینیاتی تبدیلیوں کے بعد اپنی ہیت تبدیل کر چکا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کا ردعمل
عالمی ادارہ صحت سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ماریہ نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ وائرس کا شکار ہونے کے بعد جسم میں اس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے مگر ابھی تک یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ قوت مدافعت کتنی مضبوط ہے اور کسقدر طویل عرصے تک قائم رہتی ہے۔
ہرڈ ایمونٹی اور ویکسین
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کو خوف کا باعث نہیں بننا چاہیے لیکن ہرڈ ایمیونٹی اور ویکسین کے حوالے سے یہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔
میو کلینک میں ویکسین کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر گریگوری پولینڈ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک ہی شخص کو وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں کے باعث دو بار کورونا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات البتہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ایسے واقعات کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر پولینڈ نے کہا کورونا وائرس کی دوسری اقسام، جو انفلوئنزا، زکام یا موسمی نزلہ وغیرہ کا باعث بنتے ہیں، میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، یہ وائرس دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلتے وقت خود کو معمولی سا تبدیل کر لیتے ہیں جس کے باعث وہ اپنا پھیلاؤ جاری رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے لوگوں کو زکام کی مختلف اقسام کی ویکسین ہر سال لگوانا پڑتی ہے، ہم 80 سال سے مختلف قسم کی ویکسین تیار کر رہے ہیں اور یہ مشق اب بھی جاری ہے۔
ہاورڈ ہیوز میڈیکل سنٹر کے ریسرچرز نے حال ہی میں ایک تجربہ کیا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انسان پر حملہ کرنے والے کورونا وائرس میں سے چند خود کو تبدیل کر کے انٹی باڈیز کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔
یہی وائرس بعد ازاں اپنی نقول تیار کر کے وبا کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔