نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کر کے 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے سفید فام نسل پرست کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ تمام افراد کو قتل کرنے کے بعد مساجد کو آگ لگانا چاہتا تھا۔
یہ بات ایک پراسیکیوٹر نے کرائسٹ چرچ ہائیکورٹ کو بتائی۔ سزا کا فیصلہ کرنے کے لیے شروع ہونے والی چار روزہ سماعت کے دوران ملزم کے متعلق کئی مزید انکشافات بھی ہوئے ہیں۔
سماعت کا آغاز پراسیکیوٹرز نے 26 صفحات پر مبنی حقائق کے خلاصے سے ہوئی، یہ سرکاری طور پر پہلی تفصیل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس روز کیا واقعہ ہوا تھا۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ حملے سے دو ماہ قبل ملزم نے النور مسجد کے اوپر ایک ڈرون اڑا کر اس جائزہ لیا تھا، اس نے مسجد میں داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں کے علاوہ عمارت کا فضائی جائزہ لیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم کی کوشش تھی کہ وہ اس وقت حملہ کرے جب مسجد میں زیادہ سے زیادہ نمازی موجود ہوں، حملے کے وقت مسجد النور میں 190 افراد نماز کی ادائیگی کے لیے آئے ہوئے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے گاڑی میں 6 بندوقیں رکھی ہوئی تھیں، وہ اپنے ساتھ گیس کے 4 کنٹینر بھی لایا تھا تاکہ نمازیوں کو قتل کرنے کے بعد مساجد کو آگ لگائی جا سکے۔ پولیس تفتیش کے دوران اس نے ان کنٹینر کو استعمال نہ کر سکنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
پراسیکیوٹر نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے نعیم رشید کا خصوصی ذکر کیا جو بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گرد کو روکنے کی کوشش میں خود شہید ہو گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب نعیم رشید دہشت گرد سے ہتھیار چھیننے کے لیے ایک میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئے تھے تو اس نے رائفل گھما کر انہیں 4 گولیاں ماری تھیں۔
یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں 1961 میں قتل پر سزائے موت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔
29 سالہ آسٹریلوی باشندے برینٹن ہیریسن کو 51 افراد کے قتل، 40 اقدام قتل اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے، یہ دہشت گردی پر نیوزی لینڈ کی تاریخ کی پہلی سزا ہو گی۔
وہ نیوزی لینڈ کا پہلا فرد ہو گا جسے پیرول کے امکان کے بغیر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔