امریکی ریاست فلوریڈا میں مقامی حکام نے 75 کروڑ جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے مچھروں کو مختلف جزیروں میں چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے، یہ مچھر ڈینگی، ییلو فیور اور زیکا وائرس جیسی وباؤں کا خطرہ کم کریں گے۔
نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹے اور نہ ہی انسانی خون کے طلبگار ہوتے ہیں، مادہ مچھر یہ کام کرتی ہیں اور نتیجے میں مختلف بیماریوں کو پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔
مادہ مچھروں کو افزائش نسل کے لیے نر مچھروں کی ضرورت ہوتی ہے، یہ 75 کروڑ مچھر نر ہیں جن میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے نتیجے میں مادہ مچھر اور ان سے پیدا ہونے والے بچے زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پائیں گی اور اس کے نتیجے میں مچھروں کی افزائش اور پھیلاؤ کا عمل سست پڑ جائے گا۔
اس منصوبے پر کئی برس بحث ہوتی رہی، ماحولیات سے تعلق رکھنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے غیرمتوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اس تجربے سے ایکو سسٹم کو نقصان پہنچے گا اور ایسے مچھر پیدا ہو سکتے ہیں جن میں جینیاتی تبدیلیوں والے مچھروں کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو چکی ہو۔
یہ مچھر فلوریڈا کیز میں چھوڑے جائیں گے جو کئی جزیروں پر مشتمل ایک علاقہ ہے، وفاقی ریگولیٹرز اس کی اجازت دے چکے ہیں اور کمپنی کا کہنا ہے کہ مختلف تجربات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا چکا ہے کہ ان مچھروں سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
مئی میں امریکہ کی ماحولیاتی ایجنسی نے آکسی ٹیک نامی کمپنی کو جینیاتی تبدیلیوں کے حامل مچھروں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔
ان میں ایک خاص قسم کی پروٹین موجود ہو گی جس کے باعث نئی پیدا ہونے والی مادہ مچھر بڑی ہونے اور انسانوں کو کاٹنے کی اہلیت حاصل ہونے سے قبل ہی مر جائیں گی۔ اس کا مقصد مچھروں کی ایک مخصوص قسم کو کم کرنا ہے جو ڈینگی، پیلا بخار اور زیکا وائرس کو پھیلاتے ہیں۔