• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

امریکہ میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ 75 کروڑ مچھر عوام میں پھیلانے کی منظوری

by sohail
اگست 22, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, صحت
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

امریکی ریاست فلوریڈا میں مقامی حکام نے 75 کروڑ جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے مچھروں کو مختلف جزیروں میں چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے، یہ مچھر ڈینگی، ییلو فیور اور زیکا وائرس جیسی وباؤں کا خطرہ کم کریں گے۔

نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹے اور نہ ہی انسانی خون کے طلبگار ہوتے ہیں، مادہ مچھر یہ کام کرتی ہیں اور نتیجے میں مختلف بیماریوں کو پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔

مادہ مچھروں کو افزائش نسل کے لیے نر مچھروں کی ضرورت ہوتی ہے، یہ 75 کروڑ مچھر نر ہیں جن میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے نتیجے میں مادہ مچھر اور ان سے پیدا ہونے والے بچے زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پائیں گی اور اس کے نتیجے میں مچھروں کی افزائش اور پھیلاؤ کا عمل سست پڑ جائے گا۔

اس منصوبے پر کئی برس بحث ہوتی رہی، ماحولیات سے تعلق رکھنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے غیرمتوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اس تجربے سے ایکو سسٹم کو نقصان پہنچے گا اور ایسے مچھر پیدا ہو سکتے ہیں جن میں جینیاتی تبدیلیوں والے مچھروں کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو چکی ہو۔

یہ مچھر فلوریڈا کیز میں چھوڑے جائیں گے جو کئی جزیروں پر مشتمل ایک علاقہ ہے، وفاقی ریگولیٹرز اس کی اجازت دے چکے ہیں اور کمپنی کا کہنا ہے کہ مختلف تجربات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا چکا ہے کہ ان مچھروں سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

مئی میں امریکہ کی ماحولیاتی ایجنسی نے آکسی ٹیک نامی کمپنی کو جینیاتی تبدیلیوں کے حامل مچھروں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

ان میں ایک خاص قسم کی پروٹین موجود ہو گی جس کے باعث نئی پیدا ہونے والی مادہ مچھر بڑی ہونے اور انسانوں کو کاٹنے کی اہلیت حاصل ہونے سے قبل ہی مر جائیں گی۔ اس کا مقصد مچھروں کی ایک مخصوص قسم کو کم کرنا ہے جو ڈینگی، پیلا بخار اور زیکا وائرس کو پھیلاتے ہیں۔

Tags: پیلا بخارجینیاتی طور پر تبدیلی شدہ مچھرڈینگیزیکا وائرس
sohail

sohail

Next Post

العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر

توہین رسالت کے ملزم کا قتل، سہولت کاری کے الزام میں وکیل جیل پہنچ گیا

نوازشریف کو مجرموں کی حوالگی کے تحت وطن واپس لانے کا فیصلہ

81 سالہ خاتون مردہ خانے میں رات گزار کر زندہ ہو گئیں، عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا

صدر ٹرمپ کی بہن کی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ میں 8 اہم باتیں کیا ہیں؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In