ترکی کے صدر طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ اسود میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے گیس کے ذخائر دریافت کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی گیس کے یہ ذخائر 320 ارب کیوبک میٹر پر مشتمل ہیں اور یہ ترکی کی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان ذخائر سے ترکی 2023 میں فائدہ اٹھانا شروع کرے گا اور گیس کی برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا۔
طیب اردوان کا کہنا تھا کہ اس دریافت کے بعد ترکی کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا، خطے میں کشیدگی کے باوجود انہوں نے توانائی کے ذخائر کی تلاش کے لیے سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم بحیرہ روم میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، اس سال کے آخر تک ڈرلنگ کرنے والے نئے بحری جہاز کو استعمال کیا جائے گا جو ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔
ترکی اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 41 ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے، ان ذخائر کی دریافت سے اس کا قیمتی زرمبادلہ بچے گا اور جاری کھاتوں کے خسارے میں کمی آئے گی جو ترکی کا بہت پرانا مسئلہ ہے اور جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔
طیب اردوان نے کہا کہ ہمارا ملک کئی سالوں سے بیرون ملک سے خریدی گئی گیس پر انحصار کرتا تھا، اب ہم اس سے نجات حاصل کر سکیں گے۔ جب تک ہم توانائی برآمد کرنے والا ملک نہیں بن جاتے اس وقت تک کوئی ہمیں نہیں روک سکے گا۔
ترکی کا بحری جہاز فاتح گزشتہ ماہ سے مغربی بحیرہ اسود میں ڈرلنگ کے کام میں مصروف تھا، یہ ذخائر اس وقت دریافت ہوئے ہیں جب ترکی اور یونان کے درمیان مشرقی بحیرہ روم کے متنازعہ پانیوں میں تیل اور گیس کی تلاش پر تنازعہ چل رہا ہے۔
جب سے ترکی نے زیر سمندر تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش میں تحقیق کرنے والا جہاز بھیجا ہے، اس وقت سے دونوں ممالک کے جنگی بحری جہاز ایک دوسرے کے آس پاس گھومتے رہتے ہیں۔
ترکی کے قبرص کے ساتھ بھی توانائی کے ذخائر تلاش کرنے کے حوالے سے جھگڑے چل رہے ہیں۔