متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور قرقاش نے انکشاف کیا ہے کہ دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے رستے پر گامزن ہیں۔
اٹلانٹک کونسل کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردن اور مصر کے برعکس ہم نے اسرائیل کے ساتھ کوئی جنگ نہیں لڑی اس لیے اسرائیل کے ساتھ ہمارے تعلقات ان کی نسبت زیادہ گرمجوشی پر مبنی ہوں گے۔
امریکہ کا سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا مشورہ
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں امن معاہدہ طے پا گیا، باہمی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق
انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر عرب ریاستوں کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کا عمل جلد یا بدیر مکمل ہو جائے گا۔
اسرائیل کے معاہدے پر فلسطینیوں کی مخالفت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای فلسطین اسرائیل ایشو پر دو ممالک پر مبنی حل کے ساتھ کھڑا ہے۔
ڈاکٹر انور قرقاش نے بتایا کہ یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے سے قبل فلسطینیوں سمیت کسی دوست ملک سے مشاورت نہیں کی، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں خطرات موجود ہیں مگر اس میں یو اے ای کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ شیخ محمد بن زاید کا جراتمندانہ اور دلیرانہ فیصلہ ہے۔ یہ ان تزویراتی فیصلوں میں سے ایک ہے جنہیں کرنا لازمی تھا اور اس سے خطے میں وسیع تعاون کی فضا پیدا ہو گی۔
انور قرقاش کے مطابق اس معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کو ملتوی کرنا منسلک کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم اسے ایک اچھا معاہدہ سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای مختلف معاملات میں اسرائیل کی ٹیکنالوجی پر مہارت سے فائدہ اٹھا سکے گا جبکہ اسرائیل متحدہ عرب امارات کی ابھرتی معیشت سے فائدہ اٹھائے گا۔
ڈاکٹر قرقاش نے مزید کہا کہ یو اے ای کاروبار، مالیات اور لاجسٹکس میں عالمی سطح پر اپنے مقام کی توثیق چاہتا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم دنیا کو مجموعی طور پر نہ دیکھیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یو اے ای کا سفارت خانہ یروشلم کے بجائے تل ابیب میں قائم ہو گا، اس معاہدے کے بعد امریکہ کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مستقل نزاع یا جنگ کی کیفیت برقرار رکھنے کی سوچ اب باقی نہیں رہی اس لیے ہم ان طیاروں کو خریدنے کی جائز درخواست کر سکتے ہیں۔